بیجنگ: چین کے شمالی صوبے ہیبی میں سمندری طوفان ڈوکسوری کی باقیات سے آنے والے شدید سیلاب سے کم از کم 29 افراد ہلاک جبکہ درجنوں لاپتہ ہیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طوفان ڈوکسوری نے 140 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے اور ریسکیو عملہ اب بھی طوفان میں لاپتہ 16 افراد کی تلاش کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صوبے ہیبی کی تعمیر نو کو مکمل ہونے میں دو سال لگیں گے، ابتدائی تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا براہ راست اقتصادی نقصان 13.2 بلین ڈالر (95.8 بلین یوآن) تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اعلان کردہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق 3.9 ملین باشندے، یا صوبے کی آبادی کا تقریباً 5 فیصد، سیلاب سے متاثر ہوئے اور40,000 سے زیادہ مکانات منہدم ہوئے،مزید 155,500 مکانات اور سہولیات جو بجلی اورمواصلات فراہم کرتی ہیں کو شدید نقصان پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق صوبے میں لاکھوں ہیکٹر پرکھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں،اس دوران 1.75 ملین سے زیادہ رہائشیوں کو منتقل کیا گیا ، تاہم تباہ شدہ بجلی کی تاروں اور دیگر سہولیات کی مرمت کا کام جاری ہے۔حکومت نے اس بات کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا کہ متاثرہ رہائشی سردیوں سے پہلے اپنے گھروں کو واپس جا سکیں یا نئے گھر لے سکیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت بیجنگ کی سرحد سے متصل ہیبی کے کچھ حصوں کی سڑکیں جمعے کے روز بھی کیچڑ میں اٹی ہوئی تھیں جبکہ رہائشی پانی میں ڈوبا ہوا سامان نکالنے اور تباہ شدہ گھروں کو صاف کرنے کے لیے بھاگ رہے تھے۔یہ سیلاب ہفتوں کی تاریخی گرمی کے بعد آیا۔
دوسری جانب سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس طرح کے شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔









