بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چیئرمین پی ٹی آئی کیس میں چیف جسٹس عمرعطابندیال اورنوازشریف آمنے سامنے ، تجزیاتی رپورٹ

اسلام آباد(طارق محمود سمیر )توشہ خانہ کیس میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے ایڈیشنل سیشن جج کی طرف سے جلد بازی اور ملزم کے وکلاء کو مبینہ طور پر صفائی کا موقع دیئے بغیر فیصلہ دینے کے معاملے پر سخت برہمی اور تشویش کا اظہارکیا ہے۔ چیف جسٹس نے سرکاری وکیل پر غصے اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سخت ریمارکس بھی دیئے ۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلے کو بادی النظر میں غلط قرار دیکر ہائیکورٹ میں کیس کے میرٹ پر اثر انداز ہونے کی بالواسطہ کوشش کی ہے۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں نوازشریف نے بھی اس پر سخت ردعمل کا اظہار کر دیا ہے اور چیف جسٹس عمر عطاء بندیال اور نوازشریف آمنے سامنے آگئے ہیں ۔نوازشریف نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ چیف جسٹس سزا یافتہ عمران خان کو بچانے کے لئے اپنا کیریئر دائو پر لگا رہے ہیں ، شاید یہ ملکی تاریخ کا پہلا کیس ہے جس میں اپیل کے مرحلے طے کئے بغیر سپریم کورٹ براہ راست کسی سزا یافتہ ملزم کو ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ اس سے پہلے چیف جسٹس نے اس وقت عمران خان کو غیر معمولی ریلیف دیا تھا جب نیب نے 190ملین پائونڈ مبینہ کرپشن کیس میں گرفتاری پر احتساب عدالت سے عمران خان کا ریمانڈ حاصل کر لیا تھا تو سپریم کورٹ نے براہ راست مداخلت کرتے ہوئے عمران خان کو نہ صرف رہا کیا بلکہ چیف جسٹس نے عدالت میں طلب کر کے انہیں گڈ ٹو سی یوکہا جس پر میڈیا میں چیف جسٹس کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور بعد ازاں انہوں نے اس کی وضاحت بھی کی ۔ تین رکنی بینچ کے سامنے لطیف کھوسہ نے ٹھوس دلائل کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کی، کئی مرتبہ وہ جذباتی بھی ہوئے اور یہ موقف اختیار کیا کہ سپیکر نے الیکشن کمیشن کو جو ریفرنس بھیجا وہ غلط تھا ، 120دن گزرنے کے بعد ریفرنس بھیجنا قانونی عمل نہیں ہے ۔ جب لطیف کھوسہ نے یہ کہاکہ عدالت کوگھڑی کی سویاں پہلے والی پوزیشن پر لانی ہوں گی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہر مرتبہ غلط بنیاد پر بنائی گئی عمارت نہیںگر سکتی۔ دوران سماعت اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب چیف جسٹس الیکشن کمیشن کے وکیل پر برہم ہوئے ، وکیل الیکشن کمیشن نے یہ موقف اختیار کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو انصاف ملنے کے مواقع موجود ہیں جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان یہاں موجود ہیں ، مجھے تو ملزم یہاں نظر نہیں آرہا کیا ملزم عدالت میں ہے یا جیل میں قید ہے ۔ چیف جسٹس کی اس سادگی کا تبصرہ کیا جاسکتا ہے ، کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ عدالت نے جیل حکام کوکوئی تحریری حکم نامہ جاری کیا کہ اس اپیل کی سماعت کے موقع پر عمران خان کو اٹک جیل سے عدالت لایا جائے ، یقیناً کوئی ایسا حکم نہیں دیا گیا تھا تو پھر چیف جسٹس کی طرف سے بار بار یہ کہنا کہ ملزم یہاں نظر نہیں آرہا حیران کن بات ہے ۔ چیف جسٹس کو چاہئے کہ وہ اٹک جیل کا فوری دورہ کر لیں یا اگلی سماعت پر حکومت کو حکم جاری کریں کہ عمران خان کو ان کے سامنے پیش کیا جائے جیسا وہ اس سے قبل نیب کی گرفتاری کے موقع پر کر چکے ہیں ۔بعض قانونی ماہرین ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلے پر سوالات اٹھا رہے ہیں کہ عجلت میں فیصلہ کیا گیا اور ملزم پارٹی کو صفائی کا موقع نہیں دیا گیا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے توشہ خانہ کیس گیارہ ماہ تک عدالت میں زیر سماعت رہا پہلے اس کیس کو جج ظفر اقبال نے سنا بعد ازاں ان کا تبادلہ ہو گیا اور ان کی جگہ جج ہمایوں دلاور نے سماعت کی ۔ کیس کی چالیس سماعتوںکے موقع پر عمران خان نے عدالت سے حاضری سے استثنیٰ مانگا ، عمران خان پر جب فرد جرم عائدکی گئی تو وہ عدالت میں موجود تھے اور سیکشن 342کا بیان بھی عمران خان نے عدالت میں آکر دیا۔ بعض قانونی ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا اپیل پر براہ راست اثر انداز ہونا درست عمل نہیں ہے اور نئی مثالیں قائم کی جارہی ہیں اور اگر سپریم کورٹ کا چیف جسٹس کوئی حکم جاری کر دے تو جونیئر جج کیسے اس حکم کی تعمیل نہیںکرے گا ۔ ہائیکورٹ میں لگتا ہے کہ اب رسمی کارروائی ہوگی اور چیئرمین پی ٹی آئی کو ریلیف مل جائے گا۔ علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجہ کو ملاقات کے لئے بلا لیا ہے جس کا مقصد 90روز کے اندر الیکشن کی تاریخ کے لئے الیکشن کمیشن سے مشاورت کرنا ہے ۔ قانونی ماہرین نے اس حوالے سے جس رائے کا اظہار کیا ہے اس کے تحت صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس کے بغیرکوئی فیصلہ نہیںکر سکتا آئین کے آرٹیکل 48میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ صدر وزیراعظم اورکابینہ کے مشورے پر عمل کرنے کا پابند ہے اور صدر وزیراعظم کی ایڈوائس کے بغیر الیکشن کمیشن کو تاریخ کے لئے خط نہیں لکھ سکتا۔ پلڈاٹ کے احمد بلال محبوب کاکہنا ہے کہ 90دنوں میں الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کے لئے کوئی چیلنج نہیں ہے ، الیکشن کمیشن تیزی سے تیاریاں کر رہاہے لیکن مشترکہ مفادات کونسل کی طرف سے مردم شماری کی منظوری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کروانا بھی الیکشن کمیشن کی ذمہ داری اور آئین کا تقاضا ہے جہاں تک صدر کی طرف سے الیکشن کمیشن کو خط لکھنے اور الیکشن کی تاریخ طے کرنے کا معاملہ ہے اس معاملے پر ابہام پایا جاتا ہے ۔ حال ہی میں حکومت نے الیکشن ایکٹ 2017میں ایک ترمیم کی تھی جس کے تحت الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صدر سے واپس لیکر الیکشن کمیشن کو دیا گیا ہے اور 1973کا اصل قانون بحال کیا گیا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973میں یہ اختیار الیکشن کمیشن کو دیا تھا جسے بعد ازاں ضیاء دور میں صدر مملکت کو دے دیا تھا۔صدر کے پاس الیکشن کی تاریخ دینے کا کوئی صوابدیدی اختیار نہیں ہے ۔ الیکشن کمیشن نے الیکشن کی تیاریوں کے لئے اپنا کام تیز کر دیا ہے اور سیاسی جماعتوںکو بھی مشاورت کے لئے بلانے کا شیڈول بھی جاری کیا ہے ۔ صدر کے پاس دو صوابدیدی اختیار موجود ہیں ایک جب عدم اعتمادکے بعد وزیراعظم کو ہٹا دیا جائے اور نیا قائد ایوان آئین کے مطابق سادہ اکثریت حاصل نہ کر سکے تو اس صورت میں صدرکو قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار حاصل ہے اور اسمبلی ٹوٹنے کی صورت میں صدر نگران حکومت کی تشکیل اور الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار رکھتے ہیں اس کے علاوہ صدرکے پاس یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرزکی تعیناتی کابھی صوابدیدی اختیار حاصل ہے ۔ ماضی میں صدرکے پاس اٹھاون ٹو بی کے تحت اسمبلی توڑنے کا اختیار حاصل تھا اور اس اختیارکا سابق صدر غلام اسحاق خان ، ضیاء الحق نے خوب استعمال کیا تاہم 1997میں نوازشریف نے اقتدار میں آکر صدر کا یہ ا ختیار 8ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کر دیا تھا۔ ویسے بھی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے معاملے میں جوکچھ ایوان صدر میں ہوا اس پر ابھی تک کوئی ایسا ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے کہ فائل کہاں پڑی رہی ، حتیٰ کہ اب تو عمران خان کے وکیل اور سینیٹر علی ظفر نے بھی کہہ دیا ہے کہ صدر نے فائل پر کچھ نہیں لکھا اور ان سے غلطی ہوئی جس کی وجہ سے حکومت کو دو متنازع بلوںکو قانون بنانے کا موقع ملا۔ اگر صدر صاحب ان دو بلوںکی فائل کا پتہ نہیں چلا سکے تو الیکشن کی تاریخ کیسے دیں گے ، کیونکہ اس معاملے میں الیکشن کمیشن کو بھی حال ہی میں قانون سازی کر کے اختیار دیا گیا ہے ۔