اسلام آباد(ممتازنیوز)معاشرے کے تمام طبقات سے بات چیت کے ذریعے ہی پائیدار ترقی ممکن ہے ، جولین بار نیس یہ مکالمے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کو یہ سمجھنے میں مدد کریں گے کہ مقامی رہنما وفاقی اور صوبائی دار الکومتوں سے با ہر کن ترقیاتی مسائل کو اپنی ترجیحات کے طور پر دیکھتے ہیں۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کی ریذیڈنٹ کو آرڈینیٹر کا مباحثے سے خطاب پاکستان میں اقوام متحدہ کی ریذیڈنٹ کو آرڈینیٹر جولین بارنیس نے کہا ہے مقامی سطح پر معاشرے کے تمام طبقات سے بات چیت کے ذریعے ہی پائیدار ترقی پرتوجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں اقوام متحدہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پائیدار ترقی پر ہونے والے پہلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مکالمے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کو یہ مجھنے میں مددکریں گے کہ مقامی رہنماوفاقی اور صوبائی دار الحکومتوں سے باہر کن ترقیاتی مسائل کو اپنی ترجیحات کے طور پر دیکھتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ” ہم ان کی کمیونٹیز میں موثر پیش رفت کے لیے ان کے خدشات اور ان کے خیالات کو فعال طور پر سن رہے ہیں یہ لوگ ہمیں بتارہے ہیں کہ وہ عدم مساوات کو ختم کرنے اور غربت کو کم کرنے کے لیے پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے ہمارے ساتھ کیسے کام کرنا چاہیں گے ۔ ہم ان کے خیالات کو حکومت کے سامنے رکھیں گے ۔ گزشتہ روز بہاولپور کے سینئر حکام ، اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کو آرڈینیٹر ، اور اقوام متحدہ کے دیگر عملے کے ساتھ تقریبا 100 مقامی رہنماؤں ۔ خواتین اور مرد جن میں نو جوانوں نے بھی شرکت کی۔ بہاولپور مباحثے میں چار موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی جن کا انتخاب شرکا نے تقریب سے پہلے کیا جس میں تعلیم ، پانی ، صفائی اور حفظان صحت پر توجہ کے ساتھ بنیادی سماجی خدمات تک رسائی ؛ نوجوانوں کی ملازمت اور ہنرمندی ؛ جامع ، جوابدہ اور موثر حکمرانی کی طرف کیسے پیش رفت کی جائے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ نے 6 صوبوں کی ضلعی انتظامیہ کی مدد سے پائیدار ترقی کے اہداف کے موضوع پر ملک کے بڑے شہروں میں ایسے مباحثوں کا اہتمام کیا ہے اس دوران مقامی رہنما ان ترقیاتی چیلنجوں پر بات کریں گے جن کا انہیں سامنا ہے، اور وہ اپنے اضلاع میں معاشی اور سماجی ترقی میں کیسے رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ یہ مکالمے آنے والے ہفتوں میں پاکستان بھر میں بولی جانے والی مختلف زبانوں میں ہوں گے۔










