اسلام آباد(ممتاز نیوز) ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خط پر وزارت ِ قانون و انصاف کی رائے مانگ لی ۔
تفصیلات کے مطابق ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن کے مؤقف کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے پر رائے مانگی ۔
ایوانِ صدر نے صدر مملکت کے کل کے خط کے جواب میں الیکشن کمیشن کے مؤقف پر رائے مانگی ہے
ایوانِ صدر کی جانب سے خط وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری کے نام لکھا گیا ہے ۔
دوسری جانب جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اہم اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے ملاقات کیلئے لکھے گئے خط پر غور کیا گیا، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات نہیں کریں گے۔
چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو جوابی خط لکھ دیا، خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے بعد انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں قانونی ٹیم کی جانب سے شرکاء کو بتایا گیا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت صدر سے انتخابات کے شیڈول پر مشاورت ضروری نہیں۔
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک خط کے ذریعے عام انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ کرنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت نے 9 اگست 2023 کو وزیر اعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا ۔ صدر مملکت آئین کے آرٹیکل 48 (5) کے تحت اسمبلی کے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تحلیل کی تاریخ کے 90 دن میں تاریخ مقرر کرنے کے پابند ہیں۔
صدر مملکت کی جانب سے لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر کو آج یا کل صدر کے ساتھ ملاقات کے لیے مدعو کیا جاتا ہے تاکہ مناسب تاریخ طے کی جا سکے۔
ایوانِ صدر نے الیکشن کمیشن کے خط پر وزارت ِ قانون و انصاف کی رائے مانگ لی








