بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

شہباز شریف نے نواز شریف کی وطن واپسی کی حتمی تاریخ کا اعلان کر دیا

اسلام آباد/لندن(طارق محمود سمیر) مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف چار سالہ جلاوطنی کے بعد 21اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے ،سابق وزیراعظم اور پارٹی صدر میاں محمد شہبازشریف نے اپنے ایک بیان میں نوازشریف کی وطن واپسی کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کردیا ہے ۔ ان کا بیان سابق وزیراطلاعات اور پارٹی ترجمان مریم اورنگزیب نے جاری کیا ہے جس میں شہبازشریف کا کہنا ہے کہ معمار پاکستان اور رہبر عوام میاں محمد نوازشریف 21اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے اور محسن عوام کا وطن واپسی پر فقید المثال استقبال کیا جائے گا۔دریں اثنالندن میں پارٹی اجلاس کے بعدنوازشریف،خواجہ آصف،ملک احمدخان ودیگرکے ہمراہ میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے شہبازشریف نے کہاکہ بھرپورمشاورت کے بعد فیصلہ ہوا ہے کہ نوازشریف 21 اکتوبر کو پاکستان پہنچیں گے،پوراپاکستان ان کی واپسی کامنتظر ہےلہذا پوراپاکستان نوازشریف کا فقیدالمثال استقبال کرے گا۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کیا،2018 کے جھرلوالیکشن نہ ہوتے تو پاکستان ترقی کے میدان میں بہت آگے ہوتا۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف کی واپسی کے بعدملک میں دوبارہ ترقیاں ہوں گی ۔معیشت اور ملک اسی طرح ترقی کرے گا جہاں سے نوازشریف نے چھوڑاتھا۔اس موقع پر نوازشریف نے پارٹی کے سینیٹررانامقبول احمدکے انتقا ل پر گہرے دکھ اور افسوس کااظہارکیا۔انہوںنے پارٹی کے لیے رانامقبول کی خدمات کوسراہتے ہوئے کہاکہ رانامقبول ان کے ساتھ جیل میں بھی رہے۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ نئی مردم شماری کے تحت الیکشن کراناالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن اس ضمن میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
واضح رہے کہ میاں نوازشریف جو تحریک انصاف کے دور حکومت میں 19اکتوبر2019کو لاہور سے علاج کےلئے لندن گئے تھے اور لاہور ہائیکورٹ میں میاں شہبازشریف نے پارٹی صدر کے طور پر تحریری طور پر لکھ کردیا تھا کہ نوازشریف صحت یاب ہوکر وطن واپس آئیں گے ، نوازشریف کو پانامہ کیس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک مرحوم نے سات سال قید اور جرمانے کی قید سزا سنائی تھی جبکہ ان دنوں نوازشریف لاہور کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے اور ان دنوں ان کی طبیعت خراب ہوئی اور انہیں علاج کےلئے سروسز ہسپتال لاہورمیں داخل کرایا گیا جہاں ان کے ٹیسٹ ہوئے اور سینئرز ڈاکٹرز نے ان کا علاج کیا، نوازشریف کے پلیٹلیٹس خطرناک حد تک کم ہوکر 5ہزار تک پہنچ گئے تھے اورڈاکٹرز نے سفارش کی تھی انہیں علاج کےلئے بیرون ملک بجھوایا جائے ، سابق وزیراعظم عمران خان نے ان میڈیکل رپورٹس کی تصدیق کےلئے شوکت خانم کے ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر فیصل سے رابطہ کیا تھا اور انہوں نے بھی تصدیق کی تھی کہ نوازشریف بیمار ہیں ، یہ معاملہ وفاقی کابینہ میں لے جایا گیا اور ای سی ایل سے نوازشریف کا نام نکالنے کی باضابطہ منظوری دی گئی ، میاں نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ جب کابینہ کے اجلاس میں پیش کی گئیں تو سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری آبدیدہ ہوگئی تھیں ، نوازشریف کی لندن روانگی کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ انہیں سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے علاج کےلئے بیرون ملک بجھوانے کےلئے اپنا کردارادا کیا کیونکہ عمران خان کے عزائم مختلف تھے اور انہوں نے امریکا میں تقریر کر کے نوازشریف سے جیل میں ایئر کنڈیشنز کی سہولت واپس لینے کا اعلان کیا تھا ،نوازشریف کی وطن واپسی کی کئی تاریخیں دی گئیں اور اس معاملے میں شہبازشریف کابینہ کے وزیربے محکمہ جاوید لطیف نے خاصی شہرت حاصل کی تھی ، وہ ہر پریس کانفرنس میں نئی تاریخ دے دیتے تھے جس پر انہیں ندامت کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا جبکہ ن لیگ کے قانون ماہرین جن میں سابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سمیت دیگر سینئر وکلاء شامل تھے انہوں نے نوازشریف کو یہ مشورہ دیا تھا کہ جب تک چیف جسٹس عمر عطا بندیال ریٹائرڈ نہیں ہوجاتے انہیں پاکستان نہیں آنا چاہیے ، اب عمر عطا بندیال 16 ستمبر کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں ،نوازشریف کے وکلاء ان کی وطن واپسی سے قبل راہداری ضمانت کی درخواست بھی دائر کریں گے، یہ اسی طرح کی درخواست ہوگی جیسی سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی لندن سے واپسی پر عدالت میں دائر کی گئی تھی ، پاکستان آمد کے فوری بعد نوازشریف کو متعلقہ عدالت اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے کیس کی اپیل کےلئے پیش ہونا پڑے گا ، اس کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی، ن لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نوازکو بری کر چکا ہے اور اس وقت ججز نے یہ ریمارکس دیے تھے کہ اگر مریم نواز کے خلاف نیب کوئی چیز ثابت نہیں کرسکا تو نوازشریف کے خلاف کیسے ثابت کرے گا ۔دریں اثناء میاں شہبازشریف اور ن لیگ کے دیگر سینئر رہنما نوازشریف کے ساتھ لندن میں مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیں جن میں ان کی وطن واپسی کی حتمی تاریخ طے کی گئی ہے ۔ منگل کو میاں نوازشریف سے شہبازشریف کے علاوہ سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی ملاقات کی ، ن لیگ کے ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ نوازشریف لاہور ایئرپورٹ اتریں گے یا اسلام آباد ائیر پورٹ پر ۔ لاہور ایئرپورٹ پر اترنے کےلئے ن لیگ لاہور ،گوجرانوالہ ، سیالکوٹ ، قصور کے رہنمائوں نے زور دیا ہے کہ زیادہ کارکن جمع کرنے میں آسانی ہو جبکہ دیگر شہروں بالخصوص راولپنڈی ، اسلام آباد، مری ، اٹک ، جہلم ، چکوال کے رہنمائوں کی خواہش ہے کہ نوازشریف اسلام آباد ایئرپورٹ پر اتریں اور یہاں پر ایک تاریخی استقبال کیا جائے اور وہ جی ٹی روڈ کے راستے لاہور جائیں اس حوالے سے حتمی فیصلہ آئندہ چند روز میں ہو جائے گا، ن لیگ کی چیف آرگنائزر پارٹی کو متحرک کرنے کےلئے آئندہ ہفتے مختلف شہروں کے دورے کریں گی تاکہ 21اکتوبر کو نوازشریف کی وطن واپسی پر تمام علاقوں سے کارکنوں کو متحرک کر کے ایئرپورٹ لایا جا سکے ۔