اسلام آباد(طارق محمود سمیر) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 48(5)کو جواز بنا کر قومی اسمبلی کے انتخابات 6نومبر 2023 کوکرانے کی تجویزالیکشن کمیشن کو بھجوا دی ہے ۔ صدرمملکت کی اس آئینی اختیار کے حوالے سے قانونی ماہرین متضاد رائے رکھتے ہیں اورالیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم کے بعد صدر کے پاس الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار واپس لے لیا گیا تھا ، اب صدر الیکشن کی تاریخ نہیں دے سکتے اور ان کے خط میں بھی یہ بات واضح ہے کہ 6نومبرکو الیکشن کرائے جاسکتے ہیں حتمی تاریخ صدر نے نہیں دی اور الیکشن کمیشن کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ دیگر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر کے الیکشن کرائیں اور خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ صوبوں سے بھی مشاورت کی جائے ۔ صدرکو اگریہ آئینی اختیار حاصل تھا تو انہوں نے خط میں صوبوں سے مشاورت کرنے اور عدلیہ سے رہنمائی لینے کی تجاویزکیوں دی ہیں پھر ، اس کا مطلب ہے صدر بھی یہ سمجھتے اور جانتے ہیںکہ وزیراعظم کی ایڈوائس کے بغیر وہ کوئی کام نہیںکرسکتے ، آئین میں صدرکو صرف دو صوابدیدی اختیارات دیئے گئے ہیں ،ایک اختیار آئین کے آرٹیکل 58(2)میں دیا گیا ہے جس کے تحت اگرکسی وزیراعظم کیخلاف عدم اعتمادکی تحریک منظور ہونے کے بعد اگر نیا قائد ایوان منتخب نہ ہوسکے اور وہ آئین کے مطابق سادہ اکثریت 172ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تو اسمبلی توڑنے کا صوابدیدی اختیار صدرکے پاس آجاتا ہے اور ایسی صورت میں اسمبلی ٹوٹ جاتی ہے اور صدرالیکشن کی تاریخ دینے کا آئینی اختیار رکھتے ہیں ۔ صدر نے آئین کے آرٹیکل 48(5)کا سہارا لیکر اپنی جماعت تحریک انصاف کو سیاسی طور پر فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے ، باخبر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دورہ لاہور کے دوران صدر ڈاکٹر عارف علوی کی ایک اہم شخصیت کی رہائش گاہ پرسابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی خفیہ ملاقات ہوئی جس میں بشریٰ بی بی نے عمران خان کا یہ پیغام پہنچایا کہ الیکشن کی تاریخ ہر صورت دی جائے جس پرعمل کرتے ہوئے صدر نے لاہورسے واپسی کے بعددوروز قبل وزیر قانون احمد عرفان اسلم سے ملاقات میں یہ واضح عندیہ دے دیا تھا کہ وہ بہت جلد الیکشن کی تاریخ دے دیں گے۔ پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ انہیں صدرکے خط پر بہت حیرانی ہوئی ہے ، صدر الیکشن کمیشن کو یہ کیسے کہہ سکتے ہیںکہ الیکشن کمیشن عدلیہ سے رہنمائی یا ہدایت لے ۔ صدر نے 6نومبرکی تاریخ تجویزکی ہے حتمی تاریخ نہیں دی ، صدرکو چاہئے تھا یا وہ اس معاملے پر مکمل خاموشی رکھتے یا الیکشن کی واضح تاریخ دیتے ، تجویز دینا اوربات ہے حتمی فیصلہ دینا الگ بات ہے ۔ الیکشن کمیشن کو یہ کہنا کہ عدلیہ سے تجاویز لی جائیں اور الیکشن کمیشن صوبوں سمیت دیگر فریقین سے مشاورت کرے ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ پاکستان کے اندر قومی اسمبلی کے الیکشن الگ ہوں اور صوبائی اسمبلی کے الگ ہوں ۔ بہرحال اب یہ معاملہ عدالت میں جائے گا اور آئندہ دو روزکے اندر تحریک انصاف کے سینئر رہنما سینیٹر بیرسٹرعلی ظفر سپریم کورٹ کے اندر ایک رٹ دائر کریں گے جس میں یہ موقف اختیارکیاجائے گا کہ الیکشن کمیشن صدرکے خط پر عمل نہیںکر رہا اور آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔رٹ دائر ہونے کے بعد نئے چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا پہلا بڑا امتحان آئے گا کہ وہ الیکشن کے معاملے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں اس وقت آئینی طورپر دیکھا جائے تو دو آراء سامنے آرہی ہیں ایک رائے یہ ہے کہ 90 روز کے اندر انتخابات ہونے چاہئیں اور دوسری رائے یہ ہے کہ مردم شماری کی مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کے بعد حلقہ بندیاں کرنا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے اور الیکشن کمیشن اس پرکام کررہاہے ۔علاوہ ازیں سابق وزیر اطلاعات ونشریات محمد علی درانی جنہوں نے گزشتہ دنوں صدر مملکت سے اہم ملاقات کی تھی اس ملاقات کے بارے میں ایوان صدر سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا تھا تاہم ذرائع نے یہ بتایا تھا کہ محمد علی درانی نے صدر مملکت کو اہم حلقوں کا ایک پیغام پہنچایا اور اس پیغام کے بعد صدر مملکت کے رویے میں نرمی آئی جس کا اظہار الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں بھی نظر آرہا ہے ، محمد علی درانی کی ملاقات سے قبل صدر مملکت الیکشن کمیشن کو جو خط لکھنے کی تیاریاںکر رہے تھے اس میں انہوں نے الیکشن کی حتمی تاریخ دینے کا ارادہ ظاہرکیا تھا جس پر محمد علی درانی نے صدر سے اہم مشاورت کی اور انہیں جو پیغام دیا اس کے بعد خط میں صدر نے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی بلکہ 6نومبرکی تاریخ تجویز کی ہے اور الیکشن کمیشن کو یہ بھی کہا ہے کہ وہ صوبوں اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے جبکہ عدلیہ سے بھی رہنمائی لینے کا نقطہ خط میں بیان کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد علی درانی اپنے مشن میںکامیاب رہے اور تحریک انصاف جو چاہ رہی تھی وہ سو فیصد نہیں ہوا اور صدر نے خط میں نرم لہجہ اختیار کیا۔ محمد علی درانی ماضی میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے پیغامات سیاسی رہنمائوں تک پہنچاتے رہے ہیں اور انہوں نے ایک مرتبہ جیل میں سابق وزیراعظم میاں شہبازشریف سے بھی ملاقات کی تھی جس کے بعد شہبازشریف کی رہائی ممکن ہوئی اور سیاسی حالات میں تبدیلی آئی ۔
صدر مملکت سے بشریٰ بی بی کی خفیہ ملاقات، 6 نومبر کی تاریخ کا فیصلہ کب اور کیسے ہوا؟ تجزیاتی رپورٹ میں بڑا انکشاف








