مشرقی لیبیا میں آنے والے سیلاب کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 11 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ 20 ہزار افراد تا حال لاپتا ہیں۔
ہلال احمر کے مطابق ہر جانب تباہی مچاتے سیلاب کے بعد اموات کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافے کے بعد 11 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے ، تعداد میں مسلسل اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیلاب سے تقریباً 2 ہزار لاشیں سمندر میں بہہ گئیں ہیں جبکہ 20 ہزار افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
Heres a video of the flood front cascading down a previously empty riverbed in #Lybia. A flood like this is completely unprecedented in the region and none of the infrastructure was constructed to cope with a flow of this magnitude. Truely devestating #thoughtsandprayers… pic.twitter.com/tnkA1TKrfz
— Chace (@ChacingTheStorm) September 14, 2023
اسکے علاوہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق درنہ میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 30 ہزار افراد بےگھر ہوئے ہیں۔
درنا کے میئر عبدالمنعم الغیثی کا کہنا ہے کہ امدادی کاموں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور ہمارے اندازے کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 18 ہزار سے 20 ہزار تک ہوسکتی ہے۔
واضح رہے کہ لیبیا کے شہر درنا میں مسلسل بارشوں کے باعث دو ڈیم ٹوٹ گئے اور سیلابی ریلا رہائشی علاقے میں داخل ہوگیا، ریلا اتنا طاقتور تھا کہ راستے میں آنے والی کئی رہائشی عمارتوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا تھا۔
My heart and prayers go out to those in #lybia who have just survived the flood of the century brought on by #StormDaniel. They are currently reporting up to 20,000 dead and many thousands more missing, i expect tens of thousands more people to be displaced as a result of this.… pic.twitter.com/JEcaQa0Pfa
— Chace (@ChacingTheStorm) September 14, 2023
اس سیلاب سے محفوظ رہنے والے ایک رہائشی طہٰ مفتاح کا کہنا تھا کہ ڈیم ٹوٹنے کی آواز کسی فضائی حملے یا شدید فائرنگ جیسی تھی۔ ان کے مطابق وہ شہر کے مشرقی حصے میں واقع پہاڑی پر رہتے ہیں اور بلندی کی وجہ سے محفوظ رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب درنہ میں منہدم شدہ عمارتوں کا ملبہ اور اس میں دبی انسانی لاشیں ہی بچی ہیں۔ ‘پانی تو اتر گیا ہے، بس ملبہ بچا ہے اور ان لوگوں کی لاشیں ہیں جو پانی کے ریلے میں ڈوب گئے۔’









