اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف کیس میں جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا وہ کیا ضروریات تھیں جن کی بنیاد پر پارلیمنٹ نے یہ ایکٹ بنایا؟جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ اپیل کا حق آئینی ترمیم سے ہی دیا جا سکتا ہے۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت جاری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ سماعت کررہا ہے ،ایم کیو ایم کے وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ رولز بنانے کا اختیار سپریم کورٹ کو دیا گیا ہے، رولز بنانے کو قانون سے مشروط کیا گیا ہے،جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا وہ کیا ضروریات تھیں جن کی بنیاد پر پارلیمنٹ نے یہ ایکٹ بنایا؟جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ اپیل کا حق آئینی ترمیم سے ہی دیا جا سکتا ہے۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہاکہ اگر یہ اپیل غیرآئینی ہے تو لاریفارمز میں دی اپیل غیرآئینی ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ وہ والا معاملہ ہمارے سامنے نہیں ہے،2غلط ملکر ایک درست نہیں بنا دیتے،فیصل صدیقی نے کہاکہ قانون سازی پر پابندی کہاں لگائی گئی ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ جو آرٹیکل آپ پڑھ رہے ہیں اس کی لینگوئیج پر پابندی لگاتی ہے،فیصل صدیقی نے کہاکہ آئین کے تحت دیا گیا ایک اختیار قانون سازی کے اختیار کو ختم کہاں کرتاہے،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ ایک چیز جو آئین میں نہ ہو اس کو قانون سازی سے بنا دینا کہاں ہوتا ہے؟









