اسلام آباد(طارق محمود سمیر)ورلڈکپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کا فخر بننے والے فخر زمان نے شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کر کے ورلڈ کپ1992جیسے حالات پیدا کردیے ہیں، فخر زمان نے 11چھکے مارکر شاہد آفریدی کا ریکارڈ بھی برابرکردیا اور سیمی فائنل میں پاکستان کے پہنچنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔بنگلور میں ہونے والے میچ میں
پاکستانی بالرز نے مایوس کیا اور نیوزی لینڈ نے 401 رنزکر پہاڑ جیسا ہدف دیا اور تمام تجزیہ کار یہی کہہ رہے تھے کہ نیوزی لینڈ آسانی سے جیت جائے گا لیکن فخر زمان اورکپتان بابر اعظم نے یادگار پارٹنر شپ کی بالخصوص فخر زمان نے شاندار اننگ کھیلی اور 62گیندوں پر سینچری بنا کر ریکارڈ بنایا جبکہ 11چھکے مار کر شاہد آفریدی کا ریکارڈ بھی برابرکردیا، بارش کے باعث دو مرتبہ میچ روکا گیا ،ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت پاکستان کو 21رنز سے فاتح قراردیا گیا، 1992کے ورلڈ کپ میں بھی اسی طرح کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور ایک مرحلے پر انضمام الحق اور جاوید میانداد نے شاندار اننگ کھیل کر نیوزی لینڈکو شکست دی تھی اور پاکستان فائنل تک پہنچا تھا، آج فخر زمان اور بابر اعظم نے جاوید میانداد اور انضمام الحق کی اننگزکی یاد تازہ کردی، پوری قوم کرکٹ ٹیم کیلئے دعائیںکر رہی تھی۔دوسری طرف ملکی سیاست کی طرف دیکھیں تو اسد قیصر اور فواد چودھری کی گرفتاری اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ ان دونوں سیاسی رہنمائوںکو وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کے بجائے ایک کلیئر سیاسی فیصلہ لینا ہوگا ، فواد چودھری عمران خان سے بے وفائی کر چکے ہیں اور ہائیکورٹ سے ان کے فرارکی ویڈیو وائرل ہوئی تھی اس کے بعد استحکام پاکستان پارٹی میں باضابطہ شامل ہونے کے باوجود غیر متحرک تھے اور وہاں اپنی جگہ نہیں بنا پا رہے تھے ، استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما کا گرفتار ہونا بھی ظاہر کرتا ہے کہ جو بھی اس پارٹی میں شامل ہوگا بیشک وہ کسی دبائوکے نتیجے میں شامل ہوا ہو اسے پارٹی میں متحرک ہونا پڑے گا ،جہاں تک اسد قیصرکا تعلق ہے انہوں نے اب تک پرویز خٹک کی قیادت کو تسلیم نہیںکیا جس دن انہوں نے پرویز خٹک کی قیادت کو تسلیم کر لیا کوئی انٹرویو دے دیا یا پریس کانفرنس کر لی تو ان کو بھی معافی مل جائے گی۔ مسلم لیگ(ن) انتخابات کی تیاریوں میں تیزی سے مصروف ہے، پارٹی صدر شہبازشریف نے سینئر رہنما وسابق وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈارکو پارٹی الیکشن سیل کا چیئرمین مقررکردیا ہے ۔اسحاق ڈار جو پارٹی کے سینئر رہنما ہیں اور اس وقت میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کے بعد سب سے بااختیار شخصیت ہیںکو پارٹی الیکشن سیل کا چیئرمین بنانا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ن لیگ انتخابات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے ، اسحاق ڈار اس سے قبل بھی 2018کے انتخابات میں پارٹی الیکشن سیل چلاتے رہے ہیں ،وہ اپنی معاونت کیلئے پارٹی کے بعض رہنمائوں کی خدمات بھی لیں گے ۔
فخرزمان نے ورلڈکپ 1992 جیسے حالات بنادیئے








