ورلڈکپ میں بابر اعظم کی کپتانی اور ان کی بلے بازی سے متعلق بھارتی صحافی وکرانت گپتا کے سوال پر سوئنگ کے سلطان اور سابق کرکٹر لیجنڈ وسیم اکرم نے اپنا ماہرانہ تجزیہ پیش کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سسٹم کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
انگلینڈ کے خلاف میچ کے ساتھ پاکستان کی ورلڈ کپ مہم اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے جہاں اہم میچوں میں شکستوں کی وجہ سے سیمی فائنل میں جگہ نہ بنا سکی۔
پاکستان نے بھارت میں جاری ورلڈ کپ میں اب تک 9 میچ کھیلے تھے، 4 میں کامیابی اور 5 میں ناکامی کے ساتھ اس کے 8 پوائنٹس ہیں اور رن ریٹ 0.199 ہے۔
پورے ورلڈکپ میں قومی ٹیم کی خراب پرفارمنس کے حوالے سے بابراعظم کی کپتانی پر تو پہلے ہی سوال اٹھ رہے تھے لیکن ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مینجمنٹ پر بھی سینئر کرکٹرز نے سنجیدہ سوال اٹھائے تھے۔
تاہم اب پڑوسی ملک بھارت کے نامور صحافی وکرانت گپتا نے بھی وسیم اکرم سے بابراعظم کی پرفارمنس اور ان کی کپتانی سے متعلق سوال کیا ہے۔
سماجی پلیٹ فارم ایکس پر بھارتی صحافی وکرانت گپتا نے وسیم اکرم سے سوال پوچھا کہ ’کیا صرف کپتان کو مورد الزام ٹھہرانا مناسب ہے جب آپ کے فاسٹ باؤلر 9 میچز میں نئی گیند سے صرف تین وکٹیں لے رہے ہوں؟‘
#AskThePavilion My Question for @wasimakramlive – Is it fair to blame only the captain when your leading fast bowler picks just three wickets with the new ball in 9 games?
— Vikrant Gupta (@vikrantgupta73) November 11, 2023
انہوں نے سوئنگ کے سلطان سے ایک اور سوال پوچھا کہ آپ کے لیے سب سے زیادہ مایوس کن کیا تھا، اس ورلڈ کپ میں بابر کی بیٹنگ یا ان کی کپتانی؟ اور یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح انٹر لنک ہیں؟
#AskThePavilion My Q for @wasimakramlive bhai – what’s more disappointing for you – Babar’s batting or captaincy this World Cup? And how are the two interlinked @falamb3 superb show buddy #PAKvsENG
— Vikrant Gupta (@vikrantgupta73) November 11, 2023
بھارتی صحافی کے سوال پر وسیم اکرم نے نجی اسپورٹس چینل ’اے اسپورٹس‘ پر اپنا ماہرانہ تجزیہ پیش کرتے ہوئے جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ایشیا کپ اور ورلڈکپ میں بابراعظم سے بطور کپتان کچھ غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن صرف کپتان نے کرکٹ نہیں کھیلنی، یہ پورے سسٹم کا قصور ہے، آپ صرف کپتان کو بلی کا بکرا نہیں بنا سکتے، لڑکوں کو یہ نہیں معلوم کہ کوچ کون ہے، کون آرہا اور کون جارہا ہے، یہ صرف کپتان کا نہیں بلکہ سب کا قصور ہے۔‘
دوسرے سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے جواب دیا کہ ’بابراعظم جب بڑا اسکور کرتے ہیں تو پوری عوام کے ساتھ ہم بھی خوش ہوتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی کپتانی کی وجہ سے ان کی بلے بازی پر اثر پڑا ہے، ایشیا کپ اور ورلڈکپ کے دوران ان پر دباؤ نظرآیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب کپتانی کریں گے تو ظاہر سی بات ہے دباؤ بھی آئے گا، لیکن جب آپ بلے بازی کررہے ہوتے ہیں تو پھر صرف رنز بنانے پر توجہ دینی چاہیے، یہ کہنا آسان ہے لیکن اس پر عمل کرنا مشکل ہے۔ ’
شعیب ملک اور معین خان کا بابراعظم کو مشورہ
اسی پروگرام کے دوران سابق کپتان شعیب ملک نے بابراعظم کو مستقبل کے لیے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’قیادت صرف یہ نہیں کہ میدان میں جاکر کھیل کھیلنا ہے، قیادت کا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر آپ کے اہم باؤلرز انجرڈ ہورہے ہیں تو بیک اپ پلان کیا ہے؟
شعیب ملک کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے سابق سینئر کرکٹر معین خان نے کہا کہ ’قیادت کرتے ہوئے قربانی کے لیے بھی ہردم تیار رہنا چاہیے، اگر آپ پر غیر ضروری دباؤ آرہا ہے تو آپ کو کپتانی چھوڑ دینی چاہیے، ماضی میں ہمارے پاس اس طرح کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں، جن میں سچن ٹنڈولکر، ویرات کوہلی شامل ہیں۔‘
معین خان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بابراعظم شاندار بلے باز ہیں لیکن اگر وہ کپتانی چھوڑ دیں گے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔’
شعیب ملک نے کہا کہ اگر بابر کپتانی چھوڑ کر بطور بلے باز کھیلیں گے تو وہ کئی ریکارڈ اپنے نام کرسکتے ہیں، ہم بابراعظم کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان کی اچھائی کے لیے ہی مشورہ دے رہے ہیں جس سے ٹیم اور پاکستان کو فائدہ ہوگا۔ ’









