اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹ میں قائد ایوان اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ قوم کو اعتماد میں لیے بغیر سینکڑوں دہشت گردوں کو چھوڑ دیا گیا، وہ کون تھا جو قوم کی تقدیر سے کھیلتا تھا، جائزہ لینا ہوگا کہ دہشت گردی میں اضافہ کیوں ہوا؟۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو بھی ہماری حکومت نے ختم کیا، ملک کو دہشت گردی کا چیلنج درپیش تھا، آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا، جس میں 100سے زائد بچے شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں میں تمام پارٹیوں نے نیشنل ایکشن پلان بنایا، جس کا مقصد تھا کہ اپنی سرزمین دہشتگردی کےلیے استعمال نہیں ہونے دیںگے۔
انہوں نے کہا کہ سب نے اتفاق کیا تھا کہ ہم نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنا ہے، پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنا ہے، لیکن قوم کو اعتماد میں لیے بغیر سینکڑوں دہشت گردوں کو چھوڑ دیا گیا، ہمیں اپنی غلطیوں کا احساس کرنا چاہیے۔
ن لیگ کی سابقہ حکومت کی تعریفیں کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، پاکستان کے ڈیفالٹ کرنے کے خدشات ماضی میں بہت اہم معاملہ تھا۔ پاکستان میں 20،20، گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی تھی، ہماری حکومت نے ملک سے لوڈشیڈنگ ختم کی۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹ میں قائد ایوان اسحاق ڈار نے افغان مہاجرین کی واپسی کا معاملہ بہت حساس اور اہم قرار دیا۔









