بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بلا واپسی کیس: پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی وکیل غائب، لاہور میں جج نے پٹیشن پر سوال اٹھا دیا

پشاور ہائیکورٹ میں آج پھر پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان کیس کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں کی سماعت ہو رہی ہے۔

جسٹس اعجاز خان الیکشن کمیشن کی ہائیکورٹ کے 26 دسمبر آرڈر پر نظرثانی درخواست پر سماعت کر رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند اور پی ٹی آئی کے وکیل شاہ فیصل اتمانخیل عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ آپ کے دلائل ہم نے سننے ہیں۔ جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ میں سماعت سننے کے لئے آیا ہوں۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ سینئر وکیل قاضی انور آرہے ہیں پھر دلائل پیش کریں گے، ہمیں تھوڑا وقت دیا جائے۔

جس پر جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ ٹھیک ہے جب آپ کا مین کونسل آجائے پھر سن لیں گے۔

اور جسٹس اعجاز خان نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔

لاہور ہائیکورٹ میں فیصلہ محفوظ
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لیے جانے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، جس میں پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمشنر پنجاب پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ تسلیم نہیں کررہا۔

جسٹس جواد حسن نے تحریک انصاف کی پٹیشن پر سوالات اٹھا دئیے اور کہا کہ الیکشن کمشنر پنجاب پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کیسے تسلیم کرسکتا ہے؟ پشاور ہائیکورٹ میں الیکشن کمشنر پنجاب کی اپیل زیر التوا ہے، کیا صوبائی الیکشن کمشنر اپنے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے؟

جسٹس جواد حسن نے بلے کا نشان واپس لینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

بلے کے نشان کی بحالی
واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا، تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اسی عدالت میں نظرثانی اپیل دائر کی ہے۔