نقاب پوش متعدد خواتین کی جانب سے پولنگ اسٹیشن کے اندر بیلٹ باکسز میں بیک وقت درجنوں بیلٹ پیپرز ڈالنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی، جس پر لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کیا۔
نقاب پوش خواتین کی جانب سے باکسز میں درجنوں بیلٹ پیپرز ڈالنے کی ویڈیو کو متعدد افراد نے شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ویڈیو سندھ کے دارالحکومت کراچی کی ہے۔
صحافی منصور مغیری نے مذکورہ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نقاب پوش خواتین قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 کے پولنگ اسٹیشن میں بیلٹ پیپرز ڈالتی دکھائی دیں۔
تاہم مذکورہ ویڈیو کو کیماڑی کے حلقہ این اے 242 سے انتخاب لڑنے والے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار عبدالقادر مندوخیل نے شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ویڈیو ان کے حلقے کی ہے۔
کراچی۔۔۔این اے 246 کے حلقے میں نقاب پہنے خواتین اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے کیمرے کی آنکھ میں آگئیں۔۔اب انہیں کون پکڑے گا۔۔؟؟
@alishba_tajwarr @HumairaWajahat @afzalsial786 @DahriAyesha @MediaCellPPP @pmln_org @ECP_Pakistan @MaryamNSharif @Marriyum_A @ImranRiazKhan pic.twitter.com/5sbPNf0Dnx— Mansoor Mugheri (@mansoormugheri) February 8, 2024
قادر مندوخیل نے دعویٰ کیا کہ نقاب پوش خواتین کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان سے ہے جو کہ بیلٹ باکسز میں بیلٹ پیپرز ڈال رہی ہیں۔
ایک ہی ویڈیو کے حوالے سے متضاد دعوے کیے گئے جب کہ دیگر سوشل میڈیا صارفین نے بھی مذکورہ ویڈیو کو شیئر کیا۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے بھی مذکورہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بلدیہ ٹاؤن میں ایم کیو ایم کا بیج لگائے خواتین جعلی ووٹ کاسٹ کرنے میں مصروف ہیں۔
حلقہNA 242 دھاندلی اور غنڈہ گردی کی انتہامتحدہ قومی موومنٹ pic.twitter.com/S5VybF182V
— Qadir Khan Mandokhail (@MNAmandokhail) February 8, 2024
نقاب پوش خواتین کی جانب سے باکسز میں درجنوں کے حساب سے بیلٹ پیپرز ڈالنے کی ویڈیو وائرل ہونے پر فوری طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا۔
اس سے قبل قادر مندوخیل کی جانب سے اپنے حلقے کی پولنگ اسٹیشن میں توڑ پھوڑ کرنے اور بیلٹ باکسز کو توڑنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا تھا۔
بلدیہ ٹاؤن میں ایم کیو ایم کا بیج لگائے خواتین جعلی ووٹ کاسٹ کرنے میں مصروف ہیں۔
کیا تماشہ ہے یہ؟ @ECP_Pakistan pic.twitter.com/p04tVRbYJB— Naeem ur Rehman (@NaeemRehmanEngr) February 8, 2024









