اسلام آباد(نیوزڈیسک)الیکشن کمیشن نے کمشنر راولپنڈی کے الزامات کی تردید کر دی، کمشنر راولپنڈی کی جانب سے اپنے ریجن میں دھاندلی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایم این اے کے 13 کامیاب امیداروں کو ہروایا گیا ۔
کمشنرراولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کے تہلکہ خیز انکشاف کے بعد اب الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی باقاعدہ ردعمل سامنے آ گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نتائج کی تبدیلی کیلئے کمشنرراولپنڈی کوکوئی ہدایات نہیں کیں، کسی بھی ڈویژن کا کمشنر نہ تو ڈی آراو،آراو یا پریذائیڈنگ افسرہوتا ہے۔
ادارے کی جانب سے مزید کہنا تھا کہ نہ ہی الیکشن کے کنڈکٹ میں اس کا کوئی براہ راست کردارنہیں ہوتا ہے، الیکشن کمیشن اس معاملے کی جلد از جلد انکوائری کروانے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔
واضح رہے کمشنر راولپنڈی علی چٹھہ کی جانب سے اعترافی پریس کانفرنس میں کہنا تھا ، ’میرے سامنے پریذائیڈنگ افسران رو رہےتھے،اس ڈویژن کے13ایم این ایزجوجیتےتھے،انہیں ہم نےہروایا۔‘
انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ عرصے پہلے الیکشن ڈیوٹی پر لگایا گیا۔ میں نے جو جرم کیا ہے مجھے اس پر سزائے موت دی جائے۔
لیاقت علی چٹھہ نے مزید کہا کہ ۔ ’میں نے آج صبح کی نماز کے بعدخود کشی کی کوشش کی، پھر سوچا میں کیوں حرام کی موت مروں ، کیوں نہ ساری چیزیں عوام کے سامنے رکھوں۔‘
انہوں نے کہا کہ تمام بیورو کریسی سے گزارش ہے کہ شیروانیاں سلوا کر منسٹر بننے کے لیے پھرنے والے سیاسی لوگوں کے لیے کوئی غلط کام نہ کریں۔
الیکشن کمیشن نے کمشنر راولپنڈی کے الزامات کی تردید کر دی








