اسلام آباد(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاہے کہ کہ ہمارے انتخابات کی تاریخ خوشگوار نہیں رہی، ایک انتخابات ملک توڑ دیتے ہیں دوسرا مارشل لاء لے آتے ہیں، میں اپنے ساتھیوں سے اتفاق کرتاہوں کہ انتخابات کی تاریخ افسوسناک ہے ، حالیہ انتخابات میں بھی یہی ہوا، اگر یہاں ایک الیکشن کمشنر ہے تو کیا خیبر پختون خوا میں فرشتوں نے الیکشن کروائے ، اگر خرابی ہوئی ہے تو پورے ملک میں ہوئی ہے ،2013 میں جب الیکشن ہوئے ہیں اور 4 مہینے کا احتجاجی کا دھرنا ہوا، اس وقت 35 پنکچر کا نعرہ لگایا گیا ، آج کا نعرہ فارم 45 ہے ۔
مسلم لیگ( ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بڑی اطمینان بخش یہ ہے کہ ساری تقاریر بڑی توجہ اور بڑی شائستہ طریقہ سے سنی گئی ، جو کچھ باتیں ہوئی ہیں ، ان سے جزوی طور پر میرا اختلاف ہو، امید ہے اسی طرح میری بات بھی سنی جائے گی ۔
تفصیلات کے مطابق اس میں دو رائے نہیں ہے کہ ہمارے انتخابات کی تاریخ خوشگوار نہیں رہی، قوموں کے ہاں جو بحران حل ہو تے ہیں ، قومیں آگے بڑھتی ہیں، مستقبل کا لائحہ عمل بناتی ہیں وہ الیکشن کے بعد ہوتاہے ، اطمینان آتاہے ، ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا، یہ سلسلہ 1970 سے جاری ہے ، پہلے یہ تصور کیجیے کہ 1947 میں پاکستان بنتاہے اور پہلے انتخابات 23 سال بعد ہوئے ، انتخابات ہونے لگتے ہیں تو 1958 میں مارشل لاء آجاتاہے جب انتخابات ہوتے ہیں تو 1970 میں اکثریت کا فیصلہ قبول نہیں ہوتا، یہ انتہائی افسوسناک ہے ، دوسرے انتخابات 1977 میں بھی دھاندلی کا شور اٹھتا ہے ، کشمکش ہوتی ہے ، پھر نتیجہ آتا ہے کہ 11 سال کیلئے مارشل لاء لگ جاتے ہیں، ایک انتخابات ملک توڑ دیتے ہیں دوسرا مارشل لاء لے آتے ہیں، میں اپنے ساتھیوں سے اتفاق کرتاہوں کہ انتخابات کی تاریخ افسوسناک ہے ، حالیہ انتخابات میں بھی یہی ہوا۔
انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کا ذکر نہیں ہوا، 2024 کا رونا رویا، لیکن کاش 2018 کا بھی ذکر کرتے، میر ے دوست علی ظفر نے کہا کہ جو آج ہنس رہے ہیں کل انہیں سزائیں ملیں گی تو وہ روئیں گے، جب 2018 میں وہ ہماری سزاوں پر قہقہے لگا رہے تھے تو انہیں یہ بات اس وقت یاد آنی چاہیے تھے ، ہم ہنس نہیں رہے ، 2018 میں جو ہوا وہ سیاہ باب ہے ، اس وقت بھی بہت کچھ ہوا،شائد آج بھی ہواہو ، اگر ہوا ہے تو وہ پورے ملک میں ہواہے ، اگر یہاں ایک الیکشن کمشنر ہے تو کیا خیبر پختون خواہ میں فرشتوں نے الیکشن کروائے ، اگر خرابی ہوئی ہے تو پورے ملک میں ہوئی ہے ، اس خرابی کا نقصان مجھے بھی ہواہے تو آپ کو بھی ہواہے ۔
ان کا کہناتھا کہ ایسا نہیں ہوتا ، 2013 میں جب الیکشن ہوئے ہیں اور 4 مہینے کا احتجاجی کا دھرنا ہوا، اس وقت 35 پنکچر کا نعرہ لگایا گیا ، آج کا نعرہ فارم 45 ہے ، اس وقت افضل خان ہوا کرتے تھے ، سیکریٹری تھے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑی دھاندلی ہوئی، آج کمشنر صاحب اٹھ آئے ، اس وقت یہ الزام تھا کہ اردو بازار میں بیلٹ پیپر چھاپے گئے ، اگر دھاندلی ہوئی ہے تووہ ہر کہیں ہوئی ہے ، خیبر پختون خواہ میں آپ چھائے ہوئے ہیں کیا وہاں دھاندلی نہیں ہوئی؟ 2018 میں نوازشریف کہاں تھا، آج عمران خان جیل ہے تو نوازشریف بھی جیل میں تھا، اسے بھی الیکشن میں نہیں آنے دیا گیا، اس کی بیٹی کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا، اس وقت سب ٹھیک اور جائز تھا ، جو اس وقت غلط تھا آج بھی غلط تھا ، اس وقت ہمیں الیکشن میں حصہ نہیں لینے دیا گیا، آپ کے جرائم کی فہرست بہت لمبی ہے ، آپ کو سزائیں نچلی عدالتوں سے ہوئی ہیں ، ہمیں تو سزائیں سپریم کورٹ دیتی تھی ، وہیں سے شروع اور وہیں پر ختم ہو جاتی تھی ، نہ کوئی اپیل ، نہ کوئی شنوائی، ہم نے صبر کیا اور اپنا کردار ادا کیا ، خدا کیلئے آپ بھی اس نظام کے دفاع کیلئے آگے بڑھیں ، ہمارےبھی ٹکٹ منسوخ کیے گئے تھے ،ہم آج بھی سینیٹ میں آج آزاد بیٹھے ہوئے ہیں، ہم کسی سنی کونسل میں نہیں گئے ۔









