نئے ارکان کی حلف برداری کے لیے سندھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے دوران متعدد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
نومنتخب ارکان کی حلف برداری کے لیے آغا سراج درانی کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس صبح 11 بجے ہوگا ۔ اسپیکر اورڈپٹی اسپیکر کے لیے کاغذات نامزدگی بھی آج جمع ہوں گےجی ڈی اے اور سندھ کی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے پیش نظر سندھ اسمبلی کے باہر دفعہ 144نافذ کردی گئی ہے۔ ریڈزون میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
جی ڈی نے اعلان کررکھا ہے کہ وہ اسمبلی اوراطراف کی شاہراہیں بند کریں گے اور اسمبلی کی کارروائی نہیں چلنے دیں گے۔
پولیس نے شارع فیصل نرسری کے مقام پررکاوٹیں لگا کر بند کردی ہے، پولیس کی بھاری نفری ایف ٹی سی کے مقام پر موجود ہے جہاں سے ٹریفک کو کورنگی روڈ کی طرف بھیجا جارہا ہے۔شاہراہ فیصل پر شدید ٹریفک جام سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
انتظامیہ نے سندھ اسمبلی جانے والے راستے بند کرنا شروع کردیے ہیں۔ اردو بازار سے سندھ اسمبلی جانے والا راستہ کنٹرینر لگا کر بند کردیا گیا جبکہ دیگرراستوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں بند کیا جارہا ہے
آرٹس کونسل والے چوک پر صرف اسمبلی پاسز والی گاڑیاں جا رہی ہیں ، سیکیورٹی کے حوالے سے غیر معمولی انتطامات کیے گئے ہیں۔
محکمہ داخلہ سندھ نے کراچی کے ریڈ زون میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے، جس کے تحت سندھ اسمبلی پر جلوس اور احتجاجی مظاہروں پر پابندی ہے جبکہ پریس کلب تک احتجاج کی اجازت ہوگی ۔ ریڈزون میں قانون کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔
جی ڈی اے کی قیادت کرنے علامہ راشد محمود سومرو ٹول پلازہ پر پہنچے جہاں،اندرون سندھ کے قافلوں کو کراچی کی حدود سپر ہائی وے ٹول پلازہ پر پولیس کی رکاوٹوں کا سامنا یے۔ تاہم جے یو آئی کارکنان راشد محمود سومرو کی قیادت میں رکاوٹیں دور کر کے سندھ اسمبلی کی جانب رواں دواں ہیں۔
پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔
اجلاس میں نئے اسپیکراو ڈپٹی اسپیکر کےانتخاب کیلئے شیڈول جاری ہوگا، اور اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا جائے گا۔ قائد ایوان کے انتخاب کیلئے بھی شیڈول جاری کیا جائے گا۔
اسپیکرسندھ اسمبلی کے لیے پیپلز پارٹی کے امیدوار اویس شاہ ہیں جبکہ اقلیتی رکن انتھونی نوید کو ڈپٹی اسپیکرکے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
ایم کیوایم نے سندھ اسمبلی میں ایڈووکیٹ صوفیہ شاہ کو اسپیکر اور ایڈووکیٹ راشد خان کو ڈپٹی اسپیکر کا امیدوار نامزد کیا ہے۔
صوبائی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ارکان کی تعداد 114 ہے جبکہ مخصوص نشستیں ملنے کے بعد ایم کیوایم کے ارکان کی تعداد 36 ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ اعلان کیا ہے کہ مراد علی شاہ تیسری بار وزیراعلیٰ سندھ بنیں گے۔
سندھ اسمبلی میں جی ڈی اے کے 3 ، جماعت اسلامی کے 2 ارکان ہیں جب کہ خواتین کی 2 اور ایک اقلیتی نشست کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔
سنی اتحاد کونسل میں شامل 9 ارکان کا بھی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔
سندھ کی اپوزیشن جماعتوں کا اعلان
سندھ کی اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ روز کراچی میں جی ڈی اے کے مرکز پر ہونے والے اجلاس میں اسمبلی میں حلف نہ اٹھانے اور احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کی بیٹھک میں جی ڈی اے کے علاوہ پی ٹی آئی، جماعت اسلامی ، جے یو آئی اور دیگر نے شرکت کی۔
احتجاجی مظاہروں پر پابندی ہے، سختی سے نمٹیں گے،صوبائی وزیر داخلہ
ایک بیان میں نگراں وزیر داخلہ سندھ حارث نواز نے کہا ہے کہ کراچی میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت سندھ اسمبلی پر کسی بھی قسم کے جلوس اور احتجاجی مظاہروں پر پابندی ہے۔
حارث نواز نے کہا کہ ہفتے کو سندھ اسمبلی اوراس کے اطراف سکیورٹی کے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔ کسی بھی قسم کی شرپسندی اورغیر قانونیت کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ امن وامان کے قیام میں عوام، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں۔









