بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صدر کا انکار، اسپیکر قومی اسمبلی کا اجلاس بلاسکتے ہیں، ہاں یا نہیں، قانونی ماہرین تقسیم

اسلام آباد (ویب ڈیسک) صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے سنی اتحاد کونسل کی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستین مکمل ہونے تک قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری مسترد کرنے جبکہ دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی جانب سے29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کرنے کے حوالے سے آئین و قانون کے ماہرین واضح طور پر دو آراء میں بٹ گئے ہیں .

ایک جانب سے موقف اختیار کیا جارہاہے کہ جب تک سے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں نہیں ملتیں اس وقت تک قومی اسمبلی مکمل ہی تصور نہیں کی جاسکتی جبکہ دوسری جانب کا موقف یہ ہے کہ اگر صدر مملکت آئین کے آرٹیکل 91(2) کے تحت 21دن کے اندر اندر قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلاتے تو سپیکر قومی اسمبلی اجلاس بلانے کا اختیار رکھتے ہیں

اس حوالے سےʼʼ جنگ رپورٹر ʼʼ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے معروف وکیل حافظ احسان ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ آرٹیکل91ٹو کے تحت صدرمملکت 21دن کے اندراندر قومی اسمبلی کااجلاس بلانے کے پابند ہیں اور وہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے کسی سمری کے بھی پابندی نہیں ہیں ،اس معاملہ میں بھی21دن کے اندر اندر اجلاس بلانا صدرمملکت کی ذمہ داری تھی

الیکشن کمیشن کی جانب سے جنرل نشستوں پر کامیاب اراکین کے نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد صدرمملکت نے اجلاس نہ بلا کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے.

انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ بھی دو مواقع پر آبزرویشن دے چکی ہے کہ صدرمملکت (عارف علوی )کو جوکام کرناچاہیے تھا؟ انھوں نے نہیں کیاہے ،مطلب وہ اپنی آئینی ذمہ د اریاں نبھانے میں ناکام رہے ہیں

انہوںنے کہاکہ اگر صدرمملکت اجلاس بلانے کی سمری کو مسترد کرتے ہیں تو اگلا آپشن یہی ہے کہ ا سپیکر سیکریٹری قومی اسمبلی کو اجلاس بلانے کیلئے کہہ سکتے ہیں .

انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ آئینی طو رپر صدر مملکت نئی حکومت کی تشکیل کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنے سے نہیں روک سکتے ہیں، وہ آئین کے آرٹیکل 91(2) کے تحت عام انتخابات کے انعقاد کے 21 دن کے اندر اندر پہلا اجلاس بلانے کے پابند ہیں ،اور اس آئینی شق اور اس کے آئینی حکم کی ذمہ داریوں سے انحراف نہیں کر سکتے ہیں.

انہوںنے کہاکہ یہ غیر معمولی سیشن صدر یا وزیر اعظم کی صوابدید پر منحصر نہیں ہوتاہے.

صدر آئین کے آرٹیکل 48(1) کے مطابق مشورے پر عمل کرنے کے پابند ہیں اورآئین کے آرٹیکل 91 کے مطابق 21 دن کے کے بعد اس اس معاملے کوالتواء میں رکھنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ اجلاس کی سمری کو واپس کر سکتے ہیں موجودہ صورتحال میں اگر صدر ایسا نہیں کرتے تو سیکرٹری قومی اسمبلی اجلاس طلب کرنے کا عمل شروع کر دیں گے.

پی ٹی آئی کے رہنما شعیب شاہین ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل91(2)کے تحت صدر مملکت 21 دن کے اندر اجلاس بلاتا ہے لیکن اس کے لئے اسمبلی کا مکمل ہونا ضروری ہے،الیکشن کمیشن ہمیں (سنی اتحاد کونسل کو) اسمبلی کی مخصوص نشستیں دینے کا پابند ہے ،لیکن آج 18 ، 19 دن گزرنے کے بعد بھی ابھی تک معاملے کو لٹکایا ہوا ہے.

انہوںنے کہاکہ عملاً الیکشن کمیشن جرائم کی آماجگاہ بنا ہوا ہے،وہ ایک ائینی ادارہ ہے،جسے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں، باقی پارٹیوں کو مخصوص نشستیں دے دی ہیں اور ایک پارٹی کو ابھی تک نہیں دی جارہی ہیں ،صدر مملکت اسی دن اجلاس بلائیں گے جس روز قومی اسمبلی مکمل ہوگی ،اور اس کے بعد ہی سپیکرڈپٹی سپیکر اور وزیر اعظم کا فیصلہ ہوگا .

انہوںنے کہاکہ یہ خالصتاً صدر مملکت کی صوابدید ہے ،اور ان کے علاوہ کوئی شخص اجلاس نہیں بلا سکتاہے ،اس معاملہ میں سپیکر کا کوئی کردار نہیں ہے، کرنل ریٹائرڈ انعام ال رحیم ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ کام صدر کا ہی ہے لیکن اگر وہ اجلاس نہیں بلاتے تو خود بخود ہی سپیکر کے پاس بھی اختیار آجاتاہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی بھی نہ بلائے اور یہ دوسرے کا منہ ہی دیکھتے رہیں، مخصوص نشستوں والا معاملہ بہرحال ایک ٹیکنیکل معاملہ ہے اور پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے۔