بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ہم نے صبر و تحمل سے کام لیا، کبھی بدلے کی سیاست کا نہیں سوچا، نومنتخب وزیراعظم

نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے اپنی سیاست کو قربان کرکے ملک بچایا، ہم نے صبر و تحمل سے کام لیا، کبھی بدلے کی سیاست کا نہیں سوچا۔

نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے قائد ایوان کی نشست سنبھالنے کے بعد قومی اسمبلی کے ایوان سے پہلا خطاب کیا۔

دوران خطاب اپوزیشن اراکین نے شہباز شریف کے خلاف جبکہ مسلم لیگ ن اور اتحادی اراکین نے ان کے حق میں نعرے بلند کیے، وزیراعظم کی تقریر کے دوران سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے نعرے بازی کی۔

شہباز شریف کی تقریر کے دوران لیگی کارکن نے حصار بنالیا جبکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حق میں نعرے کی گئی۔

اپوزیشن کی جانب سے دیکھو دیکھو کون آیا چور آیا کے نعرے جبکہ حکومتی اراکین کی جانب سے دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا کے نعرے لگائے گئے۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قائد نوازشریف نے مجھے اس منصب کے لیے نامزد کیا، آصف زرداری، بلاول بھٹو اور خالد مقبول صدیقی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، شجاعت حسین ،سالک حسین ،عبدالعلیم خان اورخالد مگسی کا بھی مشکور ہوں۔

شہبازشریف نے کہا کہ میرے قائد نوازشریف 3 بار وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے، نوازشریف کی لیڈر شپ میں پاکستان میں ترقی و خوشحالی کا انقلاب آیا، نوازشریف معمار پاکستان ہیں، 20،20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نوازشریف کے دور حکومت میں ختم ہوئی، پاکستان میں ایٹمی قوت کی بنیاد رکھی۔

نومنتخب وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی، شہید بینظیر بھٹو نے جمہوریت، قانون اور انصاف کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا، نواز شریف کو اس بات کی سزا دی گئی کہ انہوں نے پورے ملک میں ترقی و خوشحالی کے مینار قائم کیے، قائد ن لیگ کی تمام عوامی منصوبوں پر تختیاں لگی تھیں، نوازشریف کی حکومت کا 3 بار تختہ الٹا گیا، کیسز بنے، جلا وطنی پر مجبور کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نہ نواز شریف، نہ آصف زرداری، نہ بلاول نے پاکستان کے مفاد کے خلاف بات کی نہ سوچا، آصف زرداری اور بلاول بھٹو پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے، جب بے نظیر شہید ہوئیں تو آصف زرداری نے کہا پاکستان کھپے، ان کی باری آئی تو انہوں نے اپوزیشن کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا، ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں نوازشریف کی لیڈر شپ میں ترقی ہوئی، ہم نے کبھی ادلے بدلے کی سیاست نہیں کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف اور افواج کے خلاف زہر اگلا، 9 مئی کو اداروں پر حملے کیے گئے، جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2 صوبوں کے وزیروں کو کہا گیا آئی ایم ایف سے کہو پاکستان کی مدد نہیں کرنی، نواز شریف، زرداری، بلاول، خالد مگسی نے کہا سیاست قربان ہو لیکن ہم اپنا کردار ادا کریں گے۔