اسلام آباد(ممتازنیوز) نگراں حکومت کے دورمیںہونیوالی بھرتیوں کے حوالے سےسینئرصحافی ثناء اللہ خان نےکہاکہ نگراں وزیراعظمنےاپنی مدت کے آخری 48گھنٹوں کے دوران ایک درجن سے زائد لوگوں کی مدت ملازمت میںایک سے دو سال کی توسیع کردی،دوسری جانب وزارت اطلاعات اورخاص طور پرپی ٹی وی وہ ادارہ ہے جوکمپنی ایکٹ کے تحت آتاہے جو بھی وزیرآتاہے وہ اپنی وزارت میں نہیں بیٹھتا وہ پی ٹی وی میں بیٹھتاہے کیونکہ ان کے پاس فنانسز بہت ہوتے ہیں اورسارے فیصلے بھی وہیں پرہوتے ہیں،نگراں حکومت کے دورمیں پی ٹی وی میں سینکڑوں بھرتیاں ہوئیں،ادارے کاسیلری اورپنشن کابجٹ 1بلین سے زیادہ ہوگیاہے،عوام کے پیسوں سے لوگوں کوتنخواہ دی جاتی ہے،گھوسٹ ملازمین کی تعدادبہت زیادہ ہےسینکڑوں لوگ بھرتی ہوئے ہیں،الیکشن کی چند دن کی نشریات کےلیے 35سے چالیس لاکھ روپے سے 70لاکھ روپے تک کے چیک ایک ایک بندے کودئیے گئے،پاکستانی قوم کرکٹ سے بہت پیار کرتی ہے کیبل کی نشریات توصرف چند شہروں تک محدود ہیں باقی قوم پی ٹی وی دیکھتی ہے ،ادارے کی جانب سے پی ایس ایل کے رائٹس نہیں لیے گئے ،پی ایس ایل کے رائٹس کے لیے جس شخص نے گفتگو کرنی تھی وہ پی ٹی وی کے ایک سی ایف او تھے جس کوبورڈ نے بھرتی کیا،کیونکہ وہ سب سے بڑی رکاوٹ تھے پہلے پہلے انہیں بغیر کسی شوکاز نوٹس دئیےان کومعطل کردیاگیاپھرجان بوجھ کرایک نئی ٹیم بنائی گئی ،نئی ٹیم نے پی ایس ایل کے رائٹس نہیں لیے اعلیٰ حکام خود اس میں ملوث تھےوہ میٹنگز میں بیٹھتے تھے۔
جنرل مشرف کے دورصدارت میں فیصلہ کیاگیاکہ جوبھی کرکٹ اورہاکی کاایونٹ پاکستان میں ہوگا پی ٹی وی اسے لازمی دکھائے گا،پی ایس ایل رائٹس کافیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرناتھااوروزارت اطلاعات نے اس کوفالوکرناتھااس لیٹر کوچھپادیاگیاآج تک اس لیٹر کومنظر عام پرنہیں لایاگیا،جن لوگوں پردو دو انکوائریوں میں کرپشن ثابت ہوئی ،امریکہ میں جوٹی 20ورلڈ کپ ہوناہے ا س کے میڈیارائٹس کے لیے دبئی میں میٹنگز ہورہی ہیںاورجس طرح ہورہی ہیں اس کے نتائج کااندازہ آپ کوکچھ دن کے اندر ہوجائے گا،پاکستان میں جو کچھ ہواہے اس پربڑی بڑی فلمیں بن سکتی ہیں،نگراں وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی اختیارات نہ ہونے کے باجود کہتے تھے ہمیں ہرچیز کااختیارہے
پی ٹی وی میں کرپشن۔۔سینئر صحافی ثناء اللہ خان نےہوشرباانکشافات کرڈالے








