نان ننگ (شِنہوا) چینی اکیڈمی برائے زرعی سائنس کے ماتحت بفیلو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، اور گوانگ شی ژوآنگ خود مختار خطے کے ڈائریکٹر ہوانگ جیا شیانگ نے کہا ہے کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے کہ جہاں دنیا کی اعلیٰ معیار کی بھینسیں پائی جاتی ہیں ۔ چین میں پاکستانی دودھ دینے والی بھینسوں کے جنین متعارف کرانے سے ہماری دودھ دینے والی بھینسوں کی نسلوں میں مزید بہتری آئے گی اور چین میں بھینس کے دودھ کی صنعت کو تیزرفتاری سے فروغ ملے گا۔
حال ہی میں 5 ہزار درآمد شدہ پاکستانی دودھ دینے والی بھینسوں کے جنین کی پہلی کھیپ چین کے جنوبی گوانگ شی ژوآنگ خود مختار علاقے کے نان ننگ ہوائی اڈے کے راستے چین میں پہنچی ۔ حالیہ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے بیرون ملک سے اعلیٰ معیار کی دودھ دینے والی بھینس کے جنین متعارف کرائے ہیں ۔ یہ چین۔ پاکستان زراعت وخوراک شعبے میں عملی تعاون کی ایک نئی کامیابی بھی ہے۔
نان ننگ کسٹمز کے ایک رکن یانگ یوجائی نے بتایا کہ پاکستانی دودھ دینے والی بھینسوں کے جنین محفوظ طریقے سے متعارف کرانے کے لیے چین اور پاکستان نے متعدد دستاویزات پر دستخط کئےہیں ۔ ماہرین اس کا سائٹ پر معائنہ کرتے ہیں جس کے بعد پاکستان کے منہ اور کھر بیماری سے پاک علاقوں میں پیدا شدہ دودھ دینے والی بھینس کے جنین کو چین درآمد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
حالیہ برسوں میں بھینس کا دودھ چینی مارکیٹ میں اپنی بھرپور غذائیت ، گاڑھے پن اور بھرپور ذائقے کی وجہ سے بتدریج مقبول ہورہا ہے۔ زائد قیمت کے باجود فروخت میں اضافہ جاری ہے۔ ای کامرس پلیٹ فارمز کے فروغ کی بدولت چین کی دودھ کی صنعت میں بھینس کا دودھ کافی توجہ کا مرکزبن چکا ہے۔
گوانگ شی چین کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں دودھ دینے والی بھینسیں پائی جاتی ہیں ،اپنے منفرد جغرافیائی اور موسمیاتی حالات کی بدولت گوانگ شی چین میں بھینس کے دودھ کے بڑے پیداوری مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے۔
کئی کمپنیوں نے گوانگ شی میں اپنے مراکز قائم کئے ہیں اور اپنے مقامی بھینس کے دودھ کے برانڈز میں مسلسل توسیع کی ۔ گوانگ شی میں بھینس کے دودھ کی پیداوار ملک کی مجموعی پیداوار کا تقریبا 60 فیصد ہے ۔ 2023 میں گوانگ شی میں بھینس کے دودھ کی صنعت کی پیداواری مالیت 10 ارب یوآن (1.38 ارب امریکی ڈالر) سے زائد ہوچکی تھی۔
پاکستانی بھینسوں کے جنین سے چین میں دودھ کی صنعت کو فروغ








