وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ بنوں واقعہ کے بعد معاملات حل کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، مشیران اور پارٹی ذمہ داران نے آپس میں بیٹھ کر معاملات حل کیے۔
انھوں نے کہا کہ ایک کمیٹی قائم کی ہے جو پیر کو مجھ سے بات کرے گی، ہم عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو کہا ہے کہ مسلح افراد کے ٹھکانے خالی کرائے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج نے بڑی قربانی دی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا بٹن میرے ہاتھ میں ہے جس دن چاہوں آن آف کرسکتا ہوں، فیصل کریم کی تنقید، مناظرے کا بھی چیلنج
واضح رہے کہ اتوار کے روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا تھا کہ بنوں میں فائرنگ پی ٹی آئی کے لوگوں نے کی، جس سے بھگڈر مچی، مارچ میں تحریک انصاف کے مسلح افراد شامل تھے، واقعے میں سکیورٹی ادارے اور عوام کو لڑانے کی کوشش کی گئی۔
عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ بنوں میں تاجروں کا امن مارچ تھا اس میں سیاسی جماعتوں کے لوگ شامل ہوئے، تاجروں کے احتجاج میں تحریک انصاف بھی شامل ہوئی، پی ٹی آئی نے لوگوں کو تشدد پر اکسایا، کیا امن مارچ میں لوگ مسلح ہو کر آتے ہیں، جہاں دہشتگردی ہوئی وہاں جا کر فائرنگ کی گئی، بنوں میں دنگا فساد کرانے کی کوشش کی گئی، بنوں واقعہ تحریک انصاف نے خود کیا ہے، بنوں واقعہ میں آپ کے لوگ ملوث ہیں، آپ خود ہی کیسے انکوائری کراسکتے ہیں۔









