پاور ڈویژن کے حکام نے کہا ہے کہ حکومت یکطرفہ طور پر آئی پی پیز کے ساتھ خودمختار ضمانتوں پر مبنی معاہدوں سے الگ نہیں ہوسکتی، کیونکہ اس سے ریکوڈک معاملے کی طرح ثالثی عدالتوں میں حکومت کو بھاری جرمانے ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاور ڈویژن کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ سابق وزیر ڈاکٹر گوہر اعجاز کی سربراہی میں ممتاز برآمد کنندگان کی طرف سے کیپیسٹی پیمنٹس پر بڑھتی ہوئی تنقید کو مدنظر رکھتے ہوئےحکومت دوبارہ معاہدوں پر تب ہی دوبارہ مذاکرات کر سکتی ہے جب آئی پی پیز رضاکارانہ طور پر بات کریں۔ اس منظر نامے کے تحت، بجلی کے صارفین کے لیے تھوڑا سا ریلیف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے دورحکومت میں 1994 اور 2000 کی پاور پالیسیوں کے تحت نصب آئی پی پیز کے پاور پرچیز ایگریمنٹس میں ترمیم کی گئی اور امریکی ڈالر کی قیمت 148 روپے تک محدود کر دی گئی۔
تاہم 2015 کی پاور پالیسی کے تحت لگائے گئے پاور پلانٹس بجلی کے صارفین کو زیادہ کیپیسٹی چارجز کی ادائیگیوں کی صورت میں طویل عرصے تک پریشان کریں گے کیونکہ انہیں ڈالر کی موجودہ قیمت پر امریکی ڈالر کے اشاریہ کی بنیاد پر 17 فیصد واپسی کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس سال صرف کیپیسٹی پیمنٹس کے طور پر 2 ٹریلین روپے سے زیادہ ادا کئے جانے کا امکان ہے۔
پاور ڈویژن کے عہدیدار نے کہا کہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ، اگر حکومت اپنے پاور پلانٹس پر سالانہ 100 بلین روپے کی ریٹرن آن ایکویٹی (RoE) حاصل کرنا بند کر دیتی ہے، تو صارفین کے لیے باسکٹ ٹیرف کی قیمت 0.95 روپے فی یونٹ تک گر جائے گی۔حکومت جوہری، ہائیڈل اور آر ایل این جی پر مبنی پاور پلانٹس کی مالک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے پہلے ہی آر ایل این جی پر مبنی پاور پلانٹس کی ریٹرن آن ایکویٹی کو 16 سے کم کر کے 12 فیصد کر دیا ہے اور واپڈا کے زیر ملکیت ہائیڈرو پاور ہاسز کو 17 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ROE کو 10 فیصد سے مزید کم کیا جاتا ہے، تو واپڈا کو فنانسنگ کی ضروریات میں ایک بڑی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے یہ پروجیکٹ تجارتی طور پر ناقابل عمل ہو جائیں گے۔
آئی پی پیز سے معاہدے توڑنے پر بھاری جرمانے ادا کرنا پڑیں گے، ماہرین کا انتباہ







