بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے والد اور ملک کے پہلے صدر شیخ مجیب الرحمان کے قتل پر ہر سال 15 اگست کو منائے جانے والے یوم سوگ پر عام تعطیل ختم کردی۔
میڈیارپورٹس کے مطابق وزارت پبلک ایڈمنسٹریشن کے ذرائع کہتے ہیں کہ 15 اگست کو قومی یوم سوگ کے طور پر منائی جانے والی عام تعطیل کو منسوخ کیا جا رہا ہے۔
منگل کو وزارت کے حکام نے تصدیق کی کہ منسوخی سے متعلق ایک نوٹیفکیشن تیار کر لیا گیا ہے۔
سینئر حکام کی طرف سے ہدایات موصول ہوتے ہی نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کی توقع ہے۔
قبل ازیں عبوری حکومت کے امور داخلہ کے مشیر بریگیڈیئر جنرل (ر) ایم سخاوت حسین نے کہا تھا کہ ہم 15 اگست کی چھٹی کے بارے میں ایک اہم فیصلہ کرنے والے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ 15 اگست کو نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی ایک قابل ذکر تعداد تعینات کی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی خلل پیدا نہ کرے۔
واضح رہے کہ15 اگست 1975 کو بنگلہ دیش میں ایک فوجی بغاوت ہوئی تھی جسے بنگلہ دیش میں 15 اگست 1975 کو درمیانے رینک کے فوجی افسران نے شروع کیا تھا۔ وہ اہلکار بنگلہ دیش کے بانی اور صدر شیخ مجیب الرحمان کو قتل کرنے کی سازش کا حصہ تھے۔ مجیب الرحمان اور ان کے خاندان کے بیشتر افراد بغاوت کے دوران مارے گئے تھے جبکہ ان کی 2 بیٹیاں شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ اس وقت بیرون ملک ہونے کے باعث بچ گئی تھیں۔









