بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارتی چیف جسٹس کے گھر پوجا میں وزیرِ اعظم مودی کی شرکت پر تنازع

بھارتی چیف جسٹس کے گھر پوجا میں مودی کی شرکت پر مختلف حلقے تنقید کر رہے ہیں۔
ملک کے نامور قانون دانوں نے بھی اس پر اعتراض کیا ہے اور اخبارات میں مضامین لکھ کر عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان فاصلہ بنائے رکھنے پر زور دیا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب کسی وزیرِ اعظم نے چیف جسٹس کی سرکاری رہائش کا دورہ کیا ہو: سابق چیف جسٹس آر ایم لوڈھا
وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کی افطار پارٹی میں اس وقت کے چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن نے شرکت کی تھی: بی جے پی کا مؤقف
نئی دہلی — بھارت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی رہائش گاہ پر بدھ کو منعقد ہونے والی گنیش پوجا میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی شرکت نے ایک بڑے تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان جو فاصلہ ہونا چاہیے اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔
سابق ججز، سینئر وکلا، حزب اختلاف کے رہنماؤں اور تجزیہ کاروں نے عدلیہ کی شفافیت اور اس کے ضابطۂ اخلاق پر سوال اٹھایا ہے۔ جب کہ حکمراں جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) نے وزیرِ اعظم کے اس اقدام کا دفاع کیا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس تقریب کی ایک ویڈیو اپنے ایکس ہینڈل سے شیئر کی جس میں چیف جسٹس چندرچوڑ اور ان کی اہلیہ کلپنا داس کو ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اور مودی کے ان دونوں کے ہمراہ پوجا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سماجوادی پارٹی کے رکن راجیہ سبھا، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کپل سبل نے کہا کہ جو لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں ان کو کسی نجی تقریب کی اس طرح تشہیر نہیں کرنا چاہیے۔
انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کسی کو بھی خود کو ایسی پوزیشن میں نہیں ڈالنا چاہیے جہاں لوگ کسی ادارے کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جائیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ “میں نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر جو دیکھا اس پر حیران رہ گیا۔ وزیرِ اعظم کو وہاں نہیں جانا چاہیے تھا، اس سے غلط پیغام جاتا ہے۔”
شیو سینا (اودھو ٹھاکرے گروپ) کے رکنِ راجیہ سبھا سنجے راوت نے کہا کہ چیف جسٹس کی سبکدوشی کے دن قریب آرہے ہیں۔ ایسے میں وزیرِ اعظم مودی نے ان کے گھر پوجا میں شرکت کی۔ اس سے شک پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کا مقصد مہاراشٹر کی غیر قانونی حکومت کو بچانا اور شیو سینا اودھو ٹھاکرے گروپ کو ختم کرنا ہے۔
یاد رہے کہ شیو سینا کی تقسیم اور ایکناتھ شنڈے گروپ کی حکومت سازی کا مقدمہ چیف جسٹس کی عدالت میں ہے۔ راوت نے کہا کہ اب ان حالات میں چیف جسٹس کو اس مقدمے کی سماعت سے خود کو الگ کر لینا چاہیے ورنہ شبہات پیدا ہوں گے۔

واضح رہے کہ ڈی وائی چندر چوڑ دو ماہ کے اندر اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔
راشٹریہ جنتا دل، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی‘ (این سی پی) اور شیو سینا کے ارکانِ پارلیمان علیٰ الترتیب منوج جھا، سپریہ سولے اور پرینکا چترویدی نے بھی وزیر اعظم کے اس قدم پر تنقید کی ہے۔