اسلام آباد(اصغرچودھری)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد نے صدر پی آر اے پاکستان عثمان خان اور سیکرٹری نوید اکبر کی قیادت میں پارلیمنٹ ہاوس میں خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات میں پارلیمانی امور سمیت صحافیوں کو درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پی آر اے پاکستان کی پارلیمانی کوریج میں کردار کو سراہا اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ریفارمز اور اقدامات سے متعلق وفد کو آگاہ کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے مختلف موضوعات پر بات چیت کرتے ہوئے آئینی ترامیم کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کو مصالحت کروانے کی پیشکش کی اور کہا کہ حکومت چاہے تو آئینی، قانونی اور پارلیمانی معاملات پر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو اکٹھا بیٹھا سکتا ہوں جبکہ آئینی ترامیم کے مسودے سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی بھی لاعلم نکلے اور اسپیکر نے آئینی ترامیم کے مکمل ڈرافٹ سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پی ٹی ائی اراکین کی پارلیمان کے اندر سے گرفتاری کے معاملہ پر ابتدائی رپورٹ تیار ہوچکی ہے،جلد مکمل رپورٹ تیارہوجائے گی، کچھ سی سی ٹی وی فوٹیجز دیکھی ہیں، پی ٹی آئی اراکین کی گرفتاری کا واقعہ بدقسمتی پر مبنی ہے،میرے بطور رکن تین واقعات ہوئے جن میں 2014 کا واقعہ، پارلیمان لاجز کا واقعہ اور اب گرفتاری کا واقعہ شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈر کسی سے مشاورت کے بغیر خود جاری کئے اور گرفتار اراکین کے لئیے پارلیمنٹ لاجز کو سب جیل قرار دیا۔ آئی جی کو تمام پارٹیوں کی قیادت کے ساتھ بٹھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ اور محسن نقوی نے گرفتار اراکین کے معاملہ پر اچھا کردار ادا کیا، گرفتار اراکین کو میری کوشش سے لاک اپ کی بجائے باعزت کمروں میں رکھا گیا، گرفتار اراکین کو اپنی جیب سے کھانا بھجوایا، پروڈکشن آرڈر کے بعد گرفتار اراکین سیدھے میرے پاس آئے، پارلیمنٹ میں سابقہ حکومت کے چارسال میں ایسا کچھ نہیں ہوا، ہم رانا ثنااللہ، سعد رفیق، خواجہ آصف کے پروڈکشن آرڈرز کے لئے اسپیکر کے پیچھے پھرتے تھے۔ اپوزیشن کو ایوان کی کارروائی میں بھرپور وقت دے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی اے سی کی چیئرمین شپ کے لئے بار بار اپوزیشن کو کہتے رہے کہ پینل دیں، پی اے سی سب جماعتوں کی ہے، کسی ایک کی نہیں، اگر پی اے سی کا چیئرمین نے کوئی گڑبڑ کی تو اسے ٴٴووٹ آؤٹٴٴ کیا جاسکتا ہے۔ حکومتی اراکین کی پی اے سی میں اکثریت ہوتی ہے، ووٹ آؤٹ کیا گیا تو اچھی روایت نہیں ہوگی۔ آئینی عدالت بنانے کے معاملہ پر چارٹر آف ڈیموکریسی میں بانی پی ٹی آئی، مولانا فضل الرحمان سمیت سب کے دستخط موجود ہیں،قومی اسمبلی کا سیشن بلانے یا غیرمعینہ مدت تک ملتوی کرنے کا اختیار حکومت کا ہے،میں نے اپنی جماعت سے اسپیکرشپ کا نہیں کہا تھا، یہ پارٹی کے دوبڑوں کا فیصلہ تھا، بہت سے لوگ میرے اسپیکر بننے پر خوش نہیں ہیں،نوازشریف کی زیادہ توجہ پارٹی کی ری آرگنائزیشن پر ہے، سٹیٹسمین ہونے کے ناطے نوازشریف سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں، ملک میں اچھی خبریں آرہی ہیں، افراط زر کم ہوا، شرح سود میں کمی آئی، برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ ملاقات میں صدر پی آر اے اور سیکرٹری سمیت سینئر نائب صدر احمد نواز خان، سیکرٹری فنانس اصغر چوہدری، سیکرٹری اطلاعات جاوید حسین، ممبران گورننگ باڈی عائشہ ناز، نادر گرمانی، آسیہ انصر نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل قومی اسمبلی طاہر حسین، ایڈوائزر لیجسلیشن محمد مشتاق، اسپیشل سیکرٹری شمعون ہاشمی، ڈی جی میڈیا ظفر سلطان سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔









