اسلام آباد:چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی سے دوبار نہیں ایک بار رابطہ ہوا ہے، وزیر داخلہ سے شام 6بجے تک حتمی جواب دینے کی بات نہیں کی۔ وزیر داخلہ نے بھی احتجاج مؤخر کرنے سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ احتجاج کی کال صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان واپس لے سکتے ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر میں ہمیں سنا ہی نہیں گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ فائنل آرڈر نہیں ہے۔ سیاسی کمیٹی میں احتجاج مؤخر کرنے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔ ہم نے ہر قدم بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کے مطابق اٹھایا ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی تمام کیسز میں ضمانت پر ہیں، ہماری کسی کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ بانی پی ٹی آئی رہا ہوجاتے ہیں مذاکرات تو پھر بھی آگے چلنے ہیں، اب تک ہماری بات چیت اس سطح پر نہیں کہ اس میں رہائی کا کوئی مطالبہ ہو۔
گوہر علی خان نے کہا کہ افسوس کی بات ہے پاکستان کے 8موٹر ویز بند کیے گئے ہیں، ٹرانسپورٹ بند کردی گئی اور ہاسٹلز خالی کرا لیے گئے ہیں۔ اگر ہم نے احتجاج سے یہ سب کچھ حاصل کرنا تھا تو یہ حکومت نے کردیا ہے۔
’وزیر داخلہ نے ایسی کوئی بات نہیں کی کہ احتجاج مؤخر کریں تو بات آگے بڑھے گی، لوگوں کا حق ہے کہ پرامن طریقے سے آئیں اور اپنا احتجاج کریں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک جماعت کو نشانہ بنایا جارہا ہے کب تک نشانہ بنائیں گے، بشریٰ بی بی کا نہ توشہ خانہ سے کوئی تعلق ہے نہ پیسے لیے ہیں۔ بشریٰ بی بی کو تکلیف دینے کا مقصد بانی پی ٹی آئی کو نشانہ بنانا ہے کہ شاید وہ ٹوٹ جائیں۔’بشریٰ بی بی کا بیان روز روشن کی طرح عیاں ہے، سعودیہ کا نام نہیں لیا‘۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بشریٰ بی بی کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کررہی ہے، بشریٰ بی بی احتجاج میں شرکت نہیں کریں گی، ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں ہے۔
وزیر داخلہ نے ہم سے احتجاج مؤخر کرنے کی کوئی بات نہیں کی، بیرسٹر گوہر علی








