بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک بینک منیجرنے کسان کو پولٹری بزنس کے لیے 12 لاکھ روپے کا قرضہ دلوانے کا وعدہ کیا اور اُسے جھانسے میں لے کر رشوت کی مد میں 40 ہزار روپے کے دیسی مُرغے کھاگیا۔
کسان کو پولٹری بزنس پھیلانے کے لیے قرضہ درکار تھا۔ بینک منیجرکئی ہفتوں کے دوران قرضے کی امید دلاکر کسان سے مجموعی طور پر 40 ہزار روپے کے دیسی مُرغے ہڑپ کرگیا۔
کسان نے اسٹیٹ بینک آف بینک کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اُس کی رقم واپس دلوائی جائے۔ بصورتِ دیگر اُس نے خود سوزی کی دھمکی دی ہے۔
یہ واقعہ چھتیس گڑھ کے ضلع بلاس پور میں واقع قصبے مستوری کا ہے۔ روپ چند منہر کو قرضہ درکار تھا۔ 10 فیصد کمیشن بھی طے ہوا تھا۔ روپ چند منہر کا کہنا ہے کہ اُس نے دیسی مُرغے کسی اور سے خرید کر کِھلائے۔ وہ کہتا ہے کہ اُس کے پاس تمام رسیدیں بھی ہیں۔
جب بینک منیجر نے قرضہ بھی نہ دلوایا اور دیسی مُرغوں کے پیسے دینے پر بھی راضی نہ ہوا تو روپ چند منہر نے علاقے کے ایس ڈی ایم سے رابطہ کیا اور شکایت درج کرائی۔
بینک منیجر نے قرض کا جھانسہ دے کر کسان سے 40 ہزار کے دیسی مرغے کھاگیا








