بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وفاقی کابینہ نے مزید 8 آئی پی پیز کے ٹیرف ریویو کی منظوری دے دی

اسلام آباد:  وفاقی کابینہ نے 8 مزید انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ٹیرف ریویو کی منظوری دے دی۔  یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے 8 مزید آئی پی پیز کے ٹیرف ریویو کی منظوری دی، کابینہ نے جے ڈی ڈبلیو، چنیوٹ پاور، حمزہ شوگر، المعز پاور پلانٹ کے ساتھ ٹیرف کے ازسر نو جائزے کی منظوری دی۔
اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے انڈسٹری، تھل انڈسٹریز اور چنار انرجی کے ساتھ ٹیرف ریویو کی منظوری دی۔  کابینہ نے آئی پی پیز کے حوالے سے تشکیل کردہ خصوصی ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں ٹیرف ریویو کا فیصلہ کیا۔ اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیصلے سے قومی خزانے کو 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
واضح رہے کہ 10 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں 5 آئی پی پیز کے معاہدے منسوخ کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔  اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان معاہدوں کے خاتمے سے عوام کو سالانہ 60 ارب روپے کا فائدہ پہنچے گا اور قومی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت ہوگی، ان 5 آئی پی پیز کے مالکان نے رضاکارانہ طور پر ان معاہدوں کو ختم کرنے پر اتفاق کیا جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں اور ان معاہدوں کے ختم ہونے سے عوام کے لیے بجلی کی قیمت کم ہو گی۔ حکومت کی جانب سے 5 آئی پی پیز جن کے ساتھ معاہدے منسوخ کیے گئے تھے ان میں حب کو، روش پاور، لال پیر، صبا اور اٹلس پاور پلانٹس شامل ہیں۔ بعد ازاں، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں کچھ بنیادی اصولوں کو پورا کیا گیا ہے جس میں سے ایک ان کی پچھلی کپیسٹی، انرجی کی واجبُ الاَدا رقم دی جائیں گی، پلانٹس کو وقت سے قبل ختم کرنے کے لیے کوئی جرمانہ نہیں دیا جائے گا، آئندہ سالوں میں معاہدوں کے تحت جو ریٹرن ملنا تھا وہ بھی نہیں ادا کیا جائے گا، گزشتہ واجبُ الاَدا رقم کی دیر سے ادا ہونے والی ادائیگیوں کے چارجز بھی ادا نہیں کیے جائیں گے۔  واضح رہے کہ گزشتہ ماہ یہ خبر سامنے آئی تھی کہ حکومت نے بگاس پر مبنی پاور پلانٹس کے ساتھ ٹیرف میں کمی کے لیے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1994 اور 2002 کی توانائی پالیسی کے تحت قائم کردہ 18 آزاد پاور پروڈیوسرز ( آئی پی پیز) کے ساتھ بجلی کی خریداری کے معاہدوں (پی پی ایز) پر نظرثانی کرنے میں 4 سے 6 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس سے ایک ماہ قبل وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزیر توانائی اویس خان لغاری نے 5 آئی پی پیز کے ساتھ بجلی خریداری کے معاہدوں کو وقت سے پہلے ختم کردیا تھا جس سے سالانہ 70 ارب روپے کی بچت ہوگی۔  سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدرات قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کرنے والی کمیٹی میں شامل وزیراعظم کے معاون خصوصی محمد علی نے بتایا تھا کہ 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کرنے سے تقریباً سالانہ 60 ارب روپے کی بچت ہوگی۔  محمد علی نے بتایا تھا کہ آئی پی پیز کے ساتھ جاری بات چیت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا حصہ ہے جس سے صنعتی اور کمرشل سرگرمیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد گزشتہ ماہ 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے مرحلے میں بگاس پر مبنی آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت مکمل کی گئی ہے جس کے تحت بین الاقوامی کوئلہ کی بنیاد پر مبنی قیمتوں کو امریکی ڈالر سے علیحدہ کیا گیا ہے۔ آئی پی پیز کا ڈالر کے ساتھ لین دین ختم کرکے اسے پاکستانی روپے کے ساتھ تبدیل کیا گیا ہے۔  محمد علی کا کہنا تھا کہ بگاس پر مبنی آئی پی پیز میں تبدیلی کی باضابطہ سمری وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے بھیجی گئی ہے۔