سٹاک ہوم(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلح تنازعات ، ایٹمی ہتھیاروں اور اسلحے کی تجارت پر نظررکھنے والے عالمی ادارے’’ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) ‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافے کر رہے ہیں، جب کہ دونوں ممالک کی جانب سے گزشتہ سال نئے قسم کے جوہری ہتھیاروں پر کام بھی شروع کیا گیا ہے۔ سپری کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا جوہری ہتھیاروں کے نئے دور کی جانب بڑھ رہی ہے۔ دو روایتی حریف اور ہمسائیہ ممالک پاکستان اور بھارت کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنی جوہری میزائل کی صلاحیت بھی بڑا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے گزشتہ سال 2021 میں نئے قسم کے جوہری ترسیل کے نظام کو متعارف کرایا گیا، جسے وہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس یوکرین جنگ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ روس اور یوکرین جنگ کی وجہ سے جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا خطرہ بڑھا ہے، جب کہ آنے والی دہائی میں جوہری ہتھیاروں میں اضافہ متوقع ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایٹمی طاقت اور روایتی حریف بھارت کی جانب سے 9 مارچ 2022 کو پاکستان کے شہر میاں چنوں میں بھارتی میزائل براہموس آکر گرا تھا، جس پر بھارتی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ یہ حادثاتی طور پر ہوا ہے۔سپری کا کہنا ہے کہ سال 2022 کے شروع تک 9 جوہری ملکوں کے پاس 12 ہزار 705 جوہری ہتھیار تھے، جب کہ 1986 میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد 70 ہزار سے زائد تھی۔ جاری رپورٹ مہں کہا گیا ہے کہ امریکا اور روس نے سرد جنگ کے بعد جوہری ہتھیاروں میں بتدریج کمی کی، تاہم سرد جنگ کے بعد اب جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔سپری رپورٹ کے مطابق سال 2022 کے شروع تک روس 5 ہزار977 جوہری ہتھیاروں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، امریکا بالترتیب 5 ہزار 428 جوہری ہتھیاروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر، چین 350 جوہری ہتھیاروں کے ساتھ تیسرے اور فرانس 290 ہتھیاروں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔نو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستیں جس میں امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور جمہوری عوامی جمہوریہ کوریا (شمالی کوریا) شامل ہیں، ان ممالک نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ اگرچہ کل تعداد جنوری 2021 اور جنوری 2022 کے درمیان جوہری ہتھیاروں میں قدرے کمی واقع ہوئی تاہم ممکنہ طور پر اگلی دہائی میں یہ تعداد بڑھ جائے گی۔سال 2022 کے آغاز میں ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 3732 وار ہیڈز میزائلوں اور ہوائی جہازوں کے ساتھ تعینات کیے گئے تھے۔ جن میں تقریباً 2000 طیاروں کا تعلق روس یا امریکا سے تھا اور ان کو ہائی آپریشنل الرٹ کی حالت میں رکھا گیا تھا۔روس اور امریکا کے پاس 90 فیصد سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں۔ دیگر سات جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستیں یا تو نئے ہتھیاروں کے نظام کو تیار کر رہی ہیں یا ان کی تعیناتی کر رہی ہیں یا ایسا کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کر چکی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں خاطر خواہ توسیع کے درمیان میں ہے، جس کی سیٹلائٹ تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ 300 سے زیادہ نئے میزائل سائلوز کی تعمیر بھی شامل ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ نئے موبائل لانچرز اور آبدوز کی فراہمی کے بعد 2021 میں آپریشنل فورسز کو کئی اضافی جوہری وار ہیڈز تفویض کیے گئے ہیں۔برطانیہ نے 2021 میں اپنے کل وار ہیڈز کے ذخیرے کی حد کو بڑھانے کے فیصلے کا اعلان کیا، جس میں کئی دہائیوں کی بتدریج تخفیف اسلحہ کی پالیسیوں کو تبدیل کیا گیا۔ جوہری شفافیت کے فقدان پر چین اور روس پر تنقید کرتے ہوئے، برطانیہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اب ملک کے آپریشنل جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے، وار ہیڈز یا تعینات میزائلوں کے اعداد و شمار کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کرے گا۔سال 2021 کے اوائل میں فرانس نے باضابطہ طور پر نیوکلیئر پاورڈ بیلسٹک میزائل سب مرین ( ایس ایس بی این ) کی تیسری جنریشن کے جوہری طاقت سے چلنے والی میزائل تیار کرنے کا پروگرام شروع کیا۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں کو بڑھا رہے ہیں، اور دونوں ممالک نے سال 2021 میں نئے قسم کے جوہری ترسیل کے نظام کو متعارف کرایا اور اسے جاری رکھا۔ اسرائیل – جو عمومی طور پر جوہری ہتھیار رکھنے کا اعتراف نہیں کرتا، اس کے بارے میں بھی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنا رہا ہے۔شمالی کوریا اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے مرکزی عنصر کے طور پر اپنے فوجی جوہری پروگرام کو ترجیح دیتا رہتا ہے۔ جب کہ شمالی کوریا نے 2021 کے دوران کوئی جوہری تجربہ نہیں کیا اور نہ ہی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ سپری کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے پاس اب 20 وار ہیڈز جمع ہوچکے ہیں، اور اس کے پاس کل 45-55 وار ہیڈز کیلئے کافی فیزیل مواد موجود ہے۔ایس آئی پی آر آئی کے ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن کے ایسوسی ایٹ ریسرچر میٹ کورڈا کا کہنا ہے کہ اگر جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں نے تخفیف اسلحہ پر کوئی فوری اور ٹھوس اقدام نہیں کیا، تو سرد جنگ کے بعد پہلی بار ہوگا کہ جوہری ہتھیاروں کی عالمی انوینٹری جلد ہی بڑھنا شروع ہو سکتی ہے۔
پاکستان اور بھارت جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کر رہے ہیں،عالمی ادارے کی رپورٹ








