لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )چوہدری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کو منی لانڈرنگ کیس میں شامل تفتیش کرلیا گیا، رکن قومی اسمبلی ایف آئی اے لاہور کے دفتر میں پیش ہوگئے۔ مونس الٰہی کہتے ہیں کہ شہباز شریف پر 16 ارب کا کیس ہے، رانا ثناء کا کہنا ہے کہ مجھ پر 72 کروڑ کا کیس ہے، مجھے گرفتار کرنا ہے تو حاضر ہوں۔رکن قومی اسمبلی مونس الٰہی لاہور میں ایف آئی اے میں پیش ہوگئے، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شريف پر 16 ارب روپے کا کيس ہے، مجھے کسی قسم کا نوٹس نہیںآيا، رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 72 کروڑ کا کيس ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شوگرکمیشن پر کیس بنايا گيا ہے، مجھے گرفتارکرنا ہے تو حاضر ہوں، اندر جاکر ديکھتا ہوں کون سا کیس ہے، یہ سیاسی انتقام ہے، اس میں کوئی 2 رائے نہیں۔ایف آئی اے حکام نے مونس الٰہی کی گرفتاری کی تردید کردی، مونس الٰہی نے کہا کہ انہیں آج گرفتار نہیں کیا جائے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کیخلاف رحیم یار خان شوگر ملز کیس میں اہم شواہد مل گئے، منی لانڈرنگ کیس میں چوہدری مونس الٰہی کو شامل تفتیش کرلیا گیا، پرویز الٰہی کو طلبی کے ثمن جاری کئے جارہے ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی اور رکن قومی اسمبلی مونس الٰہی کو جواب دینے کا موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایف آئی اے دفتر میں پیشی کے بعد مونس الٰہی واپس باہر آگئے، انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔
مونس الٰہی کی ایف آئی اے دفترمیں پیشی، گرفتار نہیں کیاگیا








