بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارت سے مذاکرات کے ذريعے معاملات سلجھائے جاسکتے ہیں،وزیرخارجہ

مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان کو حقیقت پسندانہ اور درپیش چیلنجز پر مبنی ایسی خارجہ پالیسی بنانا ہوگی جس سے پاکستانیوں کو فائدہ ہو۔
انسٹيٹيوٹ آف اسٹريٹيجک اسٹڈيز سے خطاب کرتے ہوئے وزيرخارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ یوکرین جنگ کے باعث تیل کی عالمی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں، ہميں ایسے فیصلے کرنے ہیں جس سے ہماری معیشت بہتر ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں ميں اضافہ ہورہا ہے، مہنگائی بھی روزانہ کی بنیاد پر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ جغرافیائی معاملات میں تبدیلی کی وجہ سے ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں اقتصادی سفارتکاری کی طرف جانا ہوگا۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ جو دنیا بھر میں ہورہا ہے اس کا پاکستان پراثر پڑتا ہے تاہم ہم پاکستان کو مستقبل میں اونچا مقام دلانے کے لئے کوشاں ہیں کیوں کہ پاکستان کا جغرافیائی مقام انتہائی اہم ہے اور اپنے جغرافیائی مقام کو استعمال کرکے اچھے مواقع تلاش کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی طاقتوں کے مابین ايک پل کا کردار ادا کرسکتا ہے، پاکستان ماضی میں چین امریکا تعلقات میں پُل کا کردار ادا کرچکا ہے آج بھی کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امريکا کے ساتھ بھی بہتر تعلقات چاہتا ہے، پاک امریکا تعلقات ایک مخصوص نظر سے دیکھے جاتے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
بھارت سے تعلقات کے حوالے انھوں نے بتایا کہ اسلاموفوبیا کی مہم خطرناک حد کو چھونے لگی ہے اور بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات نے تشدد کو ہوا دی ہے اور وہاں ہندو توا کی ذہنیت پنپ رہی ہے۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ کشمیر اور اسلامو فوبيا کے باعث بھارت سے تعلقات خراب ہيں ليکن بھارت سے مذاکرات کے ذریعے معاملات سلجھائے جاسکتے ہیں، بھارت سے مذاکرات ہی معاملات حل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر ہم بھارتی ميڈیا اور بھارتی عوام سے روابط بڑھائیں تو ہم پاکستانی موقف کی بہتر وکالت کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے اور مودی سرکار کے مظالم سے متعلق بھارتی عوام کو براہ راست بتاسکیں گے۔
خطے سے متعلق بلاول کا کہنا تھا کہ چین ہمارا اہم ترین دوست ہے جبکہ بھارت، ایران اور افغانستان ہمارے قریب ترین پڑوسی ہیں۔ پڑوسی ممالک میں ہمارے چین کے ساتھ بہت مضبوط تعلقات ہیں اور سی پیک سے خطے میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور یہ منصوبہ دونوں ممالک کی بےمثال دوستی کی مثال ہے۔
وزیرخارجہ بلاول کا کہنا تھا کہ سی پیک سے ترقی کی نئی راہيں کھلی ہیں، ہم چین کے ساتھ تجارتی اقتصادی تعاون کو بڑھائیں گے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں اور 20 سال بعد کہاں ہوں گے۔