کراچی سے فرار ہوکر لاہور پہنچ کر ظہیر احمد نامی لڑکی سے پسند کی شادی کرنے والی دعا زہرہ کے چند قبل سامنے آنے والے پہلے انٹرویو پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دعا زہرہ نے گھر سے فرار ہونے، پسند کی شادی کرنے اور عدالتوں سمیت میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہونے کے بعد چند دن قبل شوہر ظہیر احمد کے ہمراہ لاہور کی ایک یوٹیوبر زنیرہ ماہم کو پہلا انٹرویو دیا تھا۔
تقریبا 30 منٹ دورانیے کے انٹرویو میں دعا زہرہ اور ان کے شوہر کو کئی سوالوں کے جوابات دیتے وقت پریشان بھی دیکھا گیا۔
انٹرویو کے دوران دعا زہرہ نے والدین کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مانتی ہیں کہ ان سے غلطی ہوگئی، تاہم اب وہ اپنا دل بڑا کرکے انہیں اور ان کے شوہر کو قبول کریں۔
دعا زہرہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے شوہر کے حوالے سے کی جانے والی باتیں غلط ہیں، انہیں سسرال والے نہ تو نشہ دیتے ہیں اور نہ ان پر کسی طرح کی کوئی زبردستی کی جاتی ہے۔
انٹرویو کے دوران دعا زہرہ اور یوٹیوبر کے سامنے رکھی ٹیبل پر جامِ شیریں شربت رکھے جانے کی وجہ سے لوگوں نے سمجھا تھا کہ شاید قرشی والوں نے انٹرویو کرنے والی یوٹیوبر کو پیسے دیے ہیں۔
دوران انٹرویو یوٹیوبر نے جام شیریں شربت کا گلاس پی کر قرشی کی تعریفیں بھی کی تھیں، جس وجہ سے بعض لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ زنیرہ ماہم کو مشروب کمپنی نے پیسے فراہم کیے۔
تاہم لوگوں کی تنقید کے بعد اب جام شیریں نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے نہ تو یوٹیوبر کو اسپانسر کیا اور نہ ہی کمپنی ایسے مواد کی تشہیر پر یقین رکھتی ہے۔
جام شیریں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری وضاحتی بیان میں زنیرہ ماہم کے انٹرویو کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم واضح کیا گیا کہ کمپنی ہمیشہ اخلاقی اقدار اور روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے میڈیا میں اپنی تشہیر کرتی ہے۔
کمپنی نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران ان کی مشروب کی بوتل کو نمایاں طور پر دکھایا گیا۔
کمپنی کے مطابق وہ مذکورہ انٹرویو کے بعد معاملے کی تحقیق کر رہی ہے اور اس بات کو ثابت کیا جائے گا کہ کمپنی کا اس میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
جام شیریں کے مطابق کمپنی سے ایسے انٹرویو میں مشروب کی بوتل کی تشہیر کی اجازت بھی نہیں لی گئی اور کمپنی ایسی تشہیر پر یقین نہیں رکھتی۔









