بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹرمپ کا مارین لی پین کی حمایت میں بیان، فرانس میں “سیاسی سازش” کا الزام

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کی دائیں بازو کی سیاستدان مارین لی پین کی حمایت میں ایک بیان جاری کیا، جس میں فرانس کی عدالت کی جانب سے انہیں یورپی یونین کے فنڈز میں خردبرد کے جرم میں سزا دی جانے کو “وچ ہنٹ” قرار دیا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر لکھا، “فری مارین لی پین” اور اس فیصلے کو ایک سیاسی سازش قرار دیا۔

لی پین، جو نیشنل ریلی پارٹی کی رہنما ہیں، کو پیرس کی ایک عدالت نے پانچ سال کے لیے سیاستی عہدوں سے نااہل قرار دیا تھا اور انہیں 100,000 یورو کا جرمانہ اور چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم، ان میں سے دو سال کی سزا معطل کر دی گئی ہے اور انہیں گھریلو حراست میں رکھا جائے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ “یہ ایک چھوٹے الزام پر مارین لی پین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو ممکنہ طور پر ایک ‘بک کیپنگ’ کی غلطی ہو سکتی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام فرانس اور اس کے عوام کے لیے نقصان دہ ہے، چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔

ٹرمپ کی حمایت میں ایلون مسک بھی سامنے آئے ہیں، جنہوں نے ٹویٹر پر کہا کہ “جب بائیں بازو کی جماعتیں جموکری طریقے سے نہیں جیت پاتیں تو وہ مخالفین کو جیل میں ڈالنے کے لیے قانونی نظام کا غلط استعمال کرتی ہیں۔”

مارین لی پین نے اس فیصلے کو “سیاسی فیصلہ” اور “قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی” قرار دیا ہے اور اپیل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ان کے وکیل کے مطابق، لی پین اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کریں گی۔

یہ تنازعہ فرانس میں دائیں بازو کی سیاست کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر 2027 کے فرانسیسی صدارتی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ، جہاں مارین لی پین کو اہم امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔

اس کیس کی عالمی سطح پر توجہ اور ٹرمپ اور مسک کی حمایت سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا یورپ میں دائیں بازو کے سیاستدانوں کے خلاف ہونے والی قانونی کارروائیاں صرف سیاسی نوعیت کی ہیں یا یہ درحقیقت قانونی نظام کا ایک جواز بن چکا ہے۔