ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے متعلقہ حکام کو لوٹے گئے اثاثوں اور رقوم کی واپسی کے لئے فنڈ تشکیل دینے کی ہدایت کردی۔
چیف ایڈوائزر کے پریس سیکرٹری شفیق العالم نے منی لانڈرنگ کی گئی رقوم کی بازیابی سے متعلق اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں بتایا کہچیف ایڈوائزر نے ہدایت دی ہے کہ لوٹی گئی رقوم کے انتظام کے لیے ایک فنڈ قائم کیا جائے، جو عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس فنڈ کو غریب عوام کی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا
اس موقع پر بنگلہ دیش بینک کے گورنر احسن ایچ منصور نے کہا کہ یہ فنڈ موجودہ قوانین کے تحت قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو فنڈ کے قیام کے لیے قانون میں ترمیم کی جائے گی۔انہوںنے امید ظاہر کی کہ عبوری حکومت کی مدت کے دوران یہ فنڈ قائم ہو جائے گا، تاہم منتخب حکومت کو اس عمل کو جاری رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت یہ فنڈ اُن رقوم اور اثاثوں سے تشکیل دے گی جو بدعنوانی کے الزام میں ملوث افراد سے ضبط کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن بینکوں سے رقم لوٹی گئی وہ رقم متاثرہ بینکوں کو ان کے جمع کنندگان کو معاوضہ دینے کے لیے واپس دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ غیر بینکاری ذرائع سے بدعنوانی کے ذریعے حاصل کیے گئے اثاثے غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اس فنڈ کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف کمپنیوں کے منجمد شیئرز، جن پر بینکوں کے قرضے ہیں، ان کو اسٹریٹجک سرمایہ کاروں کے حوالے کیا جائے گا۔ تاہم ایسا کرنے سے پہلے حکومت کو ان شیئرز کی عارضی ملکیت حاصل کرنا ہوگی تاکہ اس عمل کو قانونی بنایا جا سکے اسی لیے ہم یہ قانونی قدم اٹھانے جا رہے ہیں۔ نئے سرمایہ کاروں سے حاصل ہونے والی رقم اس فنڈ کے ذریعے بینکوں کو منتقل کی جائے گی۔
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کی اثاثوں اور رقوم کی واپسی کیلئے فنڈ تشکیل دینے کی ہدایت








