بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

علوی کو صدر نہیں مانتا، انہیں قانون کا ہی پتا نہیں، خواجہ آصف

کراچی (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میں عارف علوی کو صدر نہیں مانتا، عارف علوی کو قانون کا ہی پتا نہیں ہے،آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لی گئی ہیں.

ایک دو روز میں آئی ایم ایف کا معاملہ حل ہوجائے گا، پی ٹی آئی والے فیٹف کا بڑا ڈھول بجارہے ہیں، آئی ایم ایف کا جنازہ بھی تو پڑھیں، پچھلی حکومت اتنی نااہل تھی کہ قانون سازی کیلئے بھی فوج کو مداخلت کرنا پڑی.

اسحاق ڈار کی قابلیت کا احترام کرتا ہوں لیکن مفتاح اسماعیل پر عدم اعتماد نہیں کرسکتا، پی ڈی ایم کو آئندہ الیکشن ایک پلیٹ فارم سے لڑنا چاہئے، پرویز الٰہی نے مجھے کہا نواز شریف سے بات کریں ہم سے کوئی غلطیاں ہوئیں تو معاف کردیں ایک نیا باب شروع کرنا چاہتے ہیں۔

وہ نجی ٹی وی  کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں ق لیگ کے رہنما مونس الٰہی سے بھی گفتگو کی گئی۔

مونس الٰہی نے کہا کہ شہباز شریف مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں،شریف برادران نے ہمیشہ پاکستان کا بیڑا غرق کیا ہے، پچھلے لانگ مارچ میں پنجاب میں جو کمی رہ گئی تھی اب پوری ہوجائے گی، ہمارا فوکس پنجاب پر ہے، پنجاب میں ن لیگ نے آئین کی دھجیاں اڑادی ہیں، چھوٹے شہزادے کا موڈ ٹھیک کردیں تو پنجاب کا بحران حل ہوجائے گا، میرے خلاف مقدمہ عمران خا ن نے نہیں رانا ثناء اللہ نے کروایا.

نیب قانون میں بار ثبوت نیب پرہونا چاہئے ،ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کا بڑا برا حال ہوگا۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نےکہا کہ عمران خان فیٹف پر کریڈٹ لے رہے ہیں مگر آئی ایم ایف کا ڈس کریڈٹ لینے کو تیار نہیں ہیں.

تحریک انصاف نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا پھر اس پر عمل نہیں کیا،ہمیں آئی ایم ایف سے پچھلی حکومت کے وعدے پورے کرنے پڑے ہیں، آئی ایم ایف سے وعدے پورے نہیں کرتے تو الیکشن سے پہلے ملک کا دیوالیہ نکل جاتا، ہم نے ملک میں استحکام کیلئے اپنا سیاسی سرمایہ داؤ پر لگادیا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لی گئی ہیں،ایک دو روز میں آئی ایم ایف کا معاملہ حل ہوجائے گا، فیٹف کی شرائط پر عمل کیلئے جی ایچ کیو میں خصوصی سیل قائم کیا گیا تھا، پچھلی حکومت اتنی نااہل تھی کہ قانون سازی کیلئے بھی فوج کو مداخلت کرنا پڑی،قومی سلامتی کے مسائل پر فوج نے اہم ترین کردار ادا کیا، ابھی نندن کے معاملہ پربھی عمران خان میٹنگ میں نہیں آئے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان نے اپنے اقتدار کی ضمانت کیلئے سویلین حکومت کی اسپیس سرینڈر کی، ریٹائرڈ لوگ جب سازش کا الزام لگاتے ہیں انہیں بتائیں عمران خان کوا ندر کون لایا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ خرم دستگیر نے کسی اور تناظر میں بات کی ہے، پی ٹی آئی والے فیٹف کا بڑا ڈھول بجارہے ہیں.

آئی ایم ایف کا جنازہ بھی تو پڑھیں، پی ٹی آئی حکومت نے چار سال میں چار دفعہ نیب قوانین پر ہم سے بات چیت کی، پی ٹی آئی خود نیب میں ترامیم کرنا چاہتی تھی، ہم نے جو ترامیم کی یہ وہی ہیں جو یہ چاہتے تھے، نیب قانون میں ترامیم کی بنیاد سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں اصول ہے کہ الزام لگانے والے کو الزام ثابت کرنا ہوتا ہے، جھوٹے الزام پر کذب کی سزا ہوتی ہے، میں عارف علوی کو صدر نہیں مانتا، عارف علوی کو قانون کا ہی پتا نہیں ہے.

نیب قوانین میں ڈپٹی چیئرمین کی گنجائش موجود ہے،میں راجا ریاض کو اپوزیشن لیڈر مانتا ہوں، ہم ناکام نہیں ہمیں ناکامی ورثے میں ملی ہے، ہم ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کی پوری کوشش کررہے ہیں، اسحاق ڈار کی قابلیت کا احترام کرتا ہوں لیکن موجودہ وزیرخزانہ پر عدم اعتماد نہیں کرسکتا، مفتاح اسماعیل ناکام نہیں ہوئے ۔

خواجہ آصف نے کہا کہ آئی ایس پی آر نے تین دفعہ سازش کے بیانیہ کی تردید کی ہے، عمران خان خود اقتدار میں تھے تو جوڈیشل کمیشن کیوں نہیں بنایا، پی ڈی ایم کو آئندہ الیکشن ایک پلیٹ فارم سے لڑنا چاہئے، پی ڈی ایم کی مشترکہ مقبولیت چاروں صوبوں میں ہے.

پنجاب میں آئینی بحران ہے عنقریب ختم ہوجائے گا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حلفاً کہتا ہوں چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی سے خلوص سے ملے تھے، تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود چوہدری خاندان کا بڑا احترام کرتا ہوں.

پرویز الٰہی نے مجھے کان میں کہا کہ خواجہ تمہارا نواز شریف سے بڑا تعلق ہے، نواز شریف سے بات کریں ہم سے کوئی غلطیاں ہوئیں تو معاف کردیں۔