ابھرتی ہوئی اداکارہ عینا آصف نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کی رنگت، جسامت اور کپڑوں پر کیے جانے والے تبصروں سے ان کی ذہنی صحت متاثر ہوئی اور لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ وہ ابھی صرف 16 سال کی ہیں اور بچی ہی ہیں۔
کم عمری میں شہرت، لیکن ناپختگی کا احساس باقی ہے
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں عینا نے بتایا کہ انہیں 14 سال کی عمر میں اپنے پہلے ڈرامے سے ہی عوامی پذیرائی ملی، اور اگرچہ اب وہ 16 سال کی ہو چکی ہیں، ابھی بھی وہ خود کو بچہ ہی سمجھتی ہیں۔
خاندانی تعاون اور جذبات کی قدر نے بہتر انسان بنایا
عینا آصف کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جہاں ان کے جذبات، غلطیوں اور شوق کو سمجھا گیا۔ انہیں سیکھنے اور اپنی مرضی سے جینے کی آزادی ملی، جس کی بدولت وقت کے ساتھ ان میں بہتری آئی۔
ذہنی صحت پر اثر، لیکن اب برداشت بہتر ہو چکی ہے
انہوں نے انکشاف کیا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید نے شروع میں انہیں شدید متاثر کیا۔ لوگ ان کا مذاق اڑاتے اور توہین آمیز تبصرے کرتے تھے، جس سے ان کی ذہنی حالت متاثر ہوئی۔ لیکن اب وہ سیکھ چکی ہیں کہ ایسے تبصروں کو نظرانداز کرنا ہے۔
’لوگ کہتے ہیں بچی نہیں لگتی، مگر میں بچی ہی ہوں‘
عینا کے مطابق بہت سے لوگ کمنٹ کرتے ہیں کہ وہ بچی نہیں لگتیں، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ظاہری تاثر کچھ بھی ہو، حقیقت یہی ہے کہ وہ بچی ہی ہیں۔
ذہنی صحت سے متعلق بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا
انہوں نے اپنے ایک بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ بعض اوقات جب وہ کسی معالج کے پاس جاتی ہیں تو علاج کی بجائے محض مذہبی نصیحتیں کی جاتی ہیں، جس سے بیماری بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑ جاتی ہے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے الفاظ کے چناؤ میں زیادہ احتیاط برتنی چاہیے تھی۔
نہ بولڈ لباس، نہ رومانوی مناظر — اپنے اصولوں پر قائم
ایک سوال کے جواب میں عینا آصف نے واضح کیا کہ وہ رومانوی مناظر کرنے سے گریز کرتی ہیں اور بولڈ لباس پہننے سے بھی اجتناب کرتی ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ “اگر میں 20 سال کی بھی ہو جاؤں، تب بھی رومانوی سینز نہیں کروں گی۔”









