بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سخت فیصلے نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہونیکا خدشہ تھا ، سعدرفیق

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر ریلوے و ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے کہاہے کہ ایم کیوایم رہنمائوں سے ملاقات میں کراچی اور سندھ کے مسائل سمیت ایم کیو ایم اور وفاقی حکومت کے معاہدے پر گفتگو ہوئی، ایم کیو ایم کی جانب سے کوآرڈینیشن کمیٹی بنانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، جس پر فوری عمل کے لئے وزیراعظم سے مشورے کیا جائے گا ، کراچی میں کے سی آر پر بھی بات ہوئی اور متاثرین کو ان کے معاوضے ضرور فراہم کرنے چاہئیں، سخت فیصلے نہ کرتے اور عام انتخابات کی طرف چلے جاتے تو ملک کے د یوالیہ ہونے کا خدشہ تھا ، کسی بھی سیاسی جماعت کو دوسروں کی کوتاہی، ناکامی، نااہلی اور نالائقی کا ڈھول اپنے گلے میں ڈالنے کا ہرگز شوق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اپنی سیاسی ساکھ پر سمجھوتہ کرتی ہے ۔

 

جمعہ کو کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے و ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ایم کیوایم رہنمائوں سے ملاقات میں کراچی اور سندھ کے مسائل سمیت ایم کیو ایم اور وفاقی حکومت کے معاہدے پر گفتگو ہوئی، ایم کیو ایم کی جانب سے کوآرڈینیشن کمیٹی بنانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، جس پر فوری عمل کے لئے وزیراعظم سے مشورے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کے سی آر پر بھی بات ہوئی اور متاثرین کو ان کے معاوضے ضرور فراہم کرنے چاہئیں،لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جس ریلوے سے اپنی ٹرینیں نہیں چلائی جارہی وہ کیسے میٹرو ٹرینیں چلائے گی، نیشنل ریلوے اور سرکلر ریلوے میں فرق ہے، کراچی سرکلر ریلوے سی پیک کا حصہ بن چکا ہے، اگر چار سال میں تجاوزات نہ آتی تو آئندہ چھ ماہ میں یہ چلنے کے قابل ہوتی، وزیراعظم اپنے دورہ چین کے موقع پر کے سی آر کا معاملہ اٹھائیں گے، کے سی آر دورہ کے موقع پر ٹاپ آنا ایجنڈا ہو گا اور یہ منصوبہ سی پیک کے تحت بنے گا اور اس کا ماڈل بھی اورنج میٹرو کی طرز پر ہی بنے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 12 سے 13 ماہ میں ریلوے ٹھیک نہیں ہو سکتا ہے، خسارے کو کم کرنے کیلئے کوشش کریں گے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ سکھر ایئرپورٹ کو انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنارہے ہیں اور اس حوالے سے ابتدائی کام ہو رہا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے مہنگائی اور سخت فیصلوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ راستہ موجود ہے اور اس پر غور بھی کیا گیا، ہم نئے سیٹ اپ کے بارے میں غور کررہے تھے ، ایک راستہ یہ تھا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بجائے عام انتخابات کی طرف چلے جاتے ہیں، کسی اور کی کوتاہی، ناکامی، نااہلی اور نالائقی کا ڈھول اپنے گلے میں نہ ڈالیں اور کسی بھی سیاسی جماعت کو شوق نہیں ہے کہ وہ اپنی سیاسی ساکھ پر کمپرومائز کرے، اگر ہم حکومت چھوڑ کر نکل جاتے جس پر ہم سنجیدگی سے غور کر رہے تھے لیکن عمران خان نے صبر ہی نہیں کیا، انہیں لانگ مارچ بہت جلد ی آیا ہوا تھا جب کہ نگران حکومت آ تی تو وہ بھی 90دن کیلئے آئی اور 90 دن پاکستان کے پاس نہیں تھا ،ملک دیوالیہ ہونے کی طرف جا سکتا تھا، اتنی مہنگائی کرنے کے باوجود بھی کوشش ہو رہی ہے آئی ایم ایف کی ڈیل مل جائے، ساتھ دوست ممالک کی سوپرٹ ملے گی لیکن وہ سارے آئی ایم ایف کی طرف دیکھ رہ ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومت میں ایک سیاسی جماعت نہیں ہے ہم سیاسی جماعتیں ہیں، ہمارے اپنے اپنے ٹیکس ہیں اور ہمارے لئے یہ فیصلے آسان نہیں ہیں، بہت بھاری بوجھ ہے، ایسا بوجھ ہے کہ اتار پھینکنا آسان اور سر پررکھنا مشکل ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گورنر سندھ کے معاملے پر بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔وفاقی وزیر ریلوے و ہوا بازی خواجہ سعد رفیق کے ہمراہ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما ایم کیو ایم عامر خان نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کو خوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حیدر آباد ایئرپورٹ سے ڈومیسٹک فلائٹس کو بحال کیا جائے تا کہ لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا ہوں، کراچی یونیورسٹی کا وعدہ مسلم لیگ نون حکومت نے کیا تھا کہ اس وعدے کو بھی پورا کرنے کا کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں کراچی کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور ایم کیو ایم نے کراچی، حیدر آباد میں مردم شماری اور حلقہ بندیوں کے معاملے کو جلد حل کرانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔