بھارت میں ایک نوجوان خاتون کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہے، جس میں وہ دفتر میں اوور ٹائم کرنے سے دوٹوک انکار کرتی نظر آتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی پر سمجھوتہ نہیں کریں گی، چاہے اس کے نتیجے میں نوکری ہی کیوں نہ ختم ہو جائے۔
شتاکشی پانڈے نامی یہ خاتون انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیو میں بتاتی ہیں کہ ایک دن جب انہوں نے اپنا مقررہ کام مکمل کر کے دفتر سے نکلنے کی تیاری کی، تو منیجر نے انہیں کچھ اضافی کام کرنے کے لیے روکنے کی کوشش کی۔ شتاکشی کے مطابق، انہوں نے مؤدبانہ انداز میں جواب دیا کہ ان کے ڈیوٹی کے اوقات ختم ہو چکے ہیں اور انہیں گھر جانا ہے۔
ویڈیو میں وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ منیجر نے اپنے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ رات بھر سفر کرنے کے بعد صبح ساڑھے سات بجے سیدھا دفتر پہنچے اور اب تک کام کر رہے ہیں۔ اس پر شتاکشی نے کہا کہ یہ بات قابلِ فخر نہیں کہ کوئی اپنی صحت اور زندگی اوور ٹائم کی بھینٹ چڑھا دے۔ ان کا دوٹوک موقف تھا کہ اگر اس سوچ کی وجہ سے انہیں برطرف بھی کر دیا گیا تو بھی وہ زہریلے ورک کلچر کو قبول نہیں کریں گی۔
ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل ملا جلا رہا۔ کچھ لوگوں نے ان کی جرات کو سراہا، کچھ نے کہا کہ وقت پر کام مکمل کیا جائے تو اوور ٹائم کی نوبت ہی نہیں آتی، جبکہ کچھ نے مؤقف اختیار کیا کہ سینئر ملازمین پر اضافی ذمہ داریاں ہوتی ہیں، اس لیے انہیں اکثر رکنا پڑتا ہے۔ ایک صارف نے یہ بھی لکھا کہ اگر اوور ٹائم کا معاوضہ نہ دیا جائے تو کمپنی کی پالیسی ہی ناقص ہے۔









