نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت مستحکم ہوگئی ہے اور وہ حکومت شہباز شریف کی قیادت میں اعتماد سے پیش رفت کر رہے ہیں۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہاکہ 26ویں آئینی ترمیم ہضم کر رہے ہیں، 27ویں کی ضرورت نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ بھارت زبانی جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے، ہم اس پر سختی سے الرٹ ہیں۔ ہم امن کے حامی ہیں اور ہمسایوں کے ساتھ محبت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے حقیقی دوست کو پہچان لیا ہے، جبکہ بھارتی میلی نظروں کا جواب ہم اینٹ کے جواب میں پتھر سے دینے کو تیار ہیں۔
دفترِ خارجہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لندن میں اسحاق ڈار کی برطانوی پارلیمانی وزیر، ہیامش فالکنر کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا اور سیاسی، اقتصادی اور عوامی سطح پر روابط مضبوط کرنے کا عزم کیا۔ اجلاس میں جموں و کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ حل بھی زور دے کر اُجاگر کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات سے برطانوی قیادت کو آگاہ کیا، اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا عزم ناقابلِ تسخیر ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ پاکستان-برطانیہ تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں۔
اسحاق ڈار نے اعلامیہ دیا کہ 26ویں ترمیم کو فی الوقت مکمل طور پر قبول کر لیا گیا ہے اور 27ویں ترمیم کی ضرورت نہیں۔ بھارت سے متعلق تناؤ پر خبردار موقف اپنایا گیا، مگر امن پسند کردار برقرار رکھا گیا۔ پاکستان اور برطانیہ نے تعلقات کو مزید سیاسی، اقتصادی اور موسمی تعاون کے شعبوں میں وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
26ویں آئینی ترمیم ہضم کر رہے ہیں، 27ویں کی ضرورت نہیں،نائب وزیراعظم








