وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں اتنی شدید بارش کے لیے نکاسی آب کا موجودہ نظام تیار نہیں کیا گیا، اگر 100 ملی میٹر بارش کو نکالنے کا مؤثر نظام بنانا ہے تو پورے شہر کی کھدائی ناگزیر ہوگی۔
نجی ٹی وی کے مطابق مرادعلی شاہ نے کہا کہ بلدیاتی ادارے، پولیس اور انتظامیہ شہر میں بھرپور طریقے سے کام کر رہے ہیں، تاہم کراچی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔
مراد علی شاہ نے ممبئی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کراچی سے بھی زیادہ بارش ہوتی ہے، لیکن وہ شہر بھی اکثر پانی میں ڈوبا رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں شہری سیلاب (Urban Flooding) سے نمٹنے کے لیے ایک جدید اور پائیدار نکاسی آب کا نظام بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے سیوریج سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ مراد علی شاہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مختلف ادارے بغیر کسی ہم آہنگی کے سڑکوں کی کھدائی کی اجازت دیتے ہیں، جس سے بارشوں میں مزید مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اب “روڈ کٹنگ اتھارٹی” قائم کی جا رہی ہے، جو اس عمل کی باقاعدہ منظوری دے گی اور اس پر کنٹرول رکھے گی تاکہ نکاسی آب میں رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ 178 ملی میٹر بارش گلشن حدید میں جبکہ 173 ملی میٹر بارش کیماڑی میں ریکارڈ کی گئی۔ بارش کے دوران کرنٹ لگنے اور دیواریں گرنے کے مختلف واقعات میں اب تک 10 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔









