وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حالیہ پریس کانفرنس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہاہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کا معاملہ ملکی تاریخ کا “میگا کرپشن کیس” ہے، جس میں بانی پی ٹی آئی شواہد کی بنیاد پر سزا پا چکے ہیں۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عدالت نے بانی چیئرمین تحریک انصاف کو شفاف ٹرائل کے بعد 14 سال قید کی سزا سنائی،وہ عدالت کو یہ تک نہیں بتا سکے کہ اربوں روپے ملک ریاض کو کس مد میں دیئے گئے۔ تارڑ نےکہا کہ تحریک انصاف کی قیادت نے ثبوت فراہم کرنے کے بجائے مذہب کا سہارا لیا اور ریاست مدینہ کے بیانیے کو سیاسی دفاع کے طور پر استعمال کیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت کا دامن واقعی صاف ہوتا تو پھر القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے قیام کی کیا ضرورت تھی؟ یہ معاملہ بند لفافے کے ذریعے کابینہ سے منظوری لینے تک جا پہنچا، جہاں بعض وزراء کے سوالات کو نظر انداز کر دیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان کو ملنے والی رقم کو جرمانے کی مد میں جمع کرایا گیا، جو قومی خزانے کے ساتھ ایک بڑی زیادتی تھی،یہ لوگ عدالت میں اپنے دفاع میں کچھ بھی ثابت نہ کر سکے۔ ضمانت ملنا بریت نہیں ہوتا، ماضی میں پی ٹی آئی کے کئی رہنما ضمانت کے باوجود سزائیں پا چکے ہیں۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ 190 ملین پاؤنڈ کے اس اسکینڈل میں پی ٹی آئی قیادت کا کردار مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے اور اب ان کے پاس کوئی قانونی، اخلاقی یا سیاسی جواز باقی نہیں رہا۔









