پاکستان اور بنگلہ دیش نے تعلقات کی بہتری کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری و سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو بغیر ویزا سفر کی اجازت دے دی ہے۔
اس پیش رفت کی باضابطہ منظوری بنگلہ دیش کی مشاورتی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت عبوری حکومت کے سربراہ پروفیسر محمد یونس نے کی۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان ویزا چھوٹ کے مسودے کو منظور کیا گیا، جس کے تحت اب سرکاری و سفارتی سطح پر سفر مزید آسان ہو جائے گا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی گرمجوشی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
اقتصادی تعاون پر بات چیت
ادھر پاکستان کے وزیرِ تجارت جام کمال خان، جو اِن دنوں بنگلہ دیش کے سرکاری دورے پر ہیں، نے ڈھاکہ میں بنگلہ دیشی مشیر برائے صنعت عادل الرحمٰن خان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان صنعتی شراکت داری کو فروغ دینے کے امکانات پر گفتگو کی گئی، خصوصاً خوراک کے تحفظ، صنعتی ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ مرکوز رہی۔
اس موقع پر پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر بھی موجود تھے۔ دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ معلومات کے تبادلے، مشترکہ منصوبوں اور تعاون کے ذریعے دو طرفہ تجارت اور صنعت کو فروغ دیا جائے گا۔
اعلیٰ سطح دورے اور تجارتی روابط میں وسعت
ڈیلی اسٹار کے مطابق، پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 23 اگست کو بنگلہ دیش کا سرکاری دورہ کریں گے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان پانچ اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔
یہ رواں سال پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کا تیسرا اعلیٰ سطحی وزارتی دورہ ہوگا۔ واضح رہے کہ 2013 میں عبدالقادر ملا کی پھانسی پر پاکستان کے ردعمل سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے، تاہم گزشتہ برس بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ان تعلقات میں بہتری کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
تجارت اور رابطے بڑھانے کی کوششیں
دوطرفہ تجارت میں حالیہ اضافے نے بھی تعلقات کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں تجارت کا حجم 865 ملین ڈالر تک جا پہنچا ہے، جہاں بنگلہ دیش کی برآمدات میں 20 فیصد اور پاکستان کی برآمدات میں 28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اگست 2024 سے دونوں ممالک کے درمیان شپنگ، ویزا اور تجارتی سہولیات کو آسان بنایا گیا ہے۔ براہ راست پروازوں کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے۔ پاکستانی ایئرلائن *فلائی جناح* کو کراچی-ڈھاکہ پرواز کی اجازت مل چکی ہے، جبکہ ایئر سیال اور بنگلہ دیش کی بیمان ایئرلائن بھی اسی راہ پر گامزن ہیں۔
مشترکہ اقتصادی کمیشن کی بحالی
پاکستان فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ کی سربراہی میں ایک تجارتی وفد نے رواں سال جنوری میں 12 سال بعد ڈھاکہ کا دورہ کیا۔ اب امکان ہے کہ ستمبر یا اکتوبر میں دونوں ممالک کا مشترکہ اقتصادی کمیشن اجلاس منعقد ہوگا، جو 20 سال بعد اس فورم کی بحالی کی علامت ہوگا۔ اسی موقع پر پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے دورہ بنگلہ دیش کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔









