بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

گیارہواں این ایف سی تشکیل دے دیا گیا: صوبوں کا حصہ کم کرنے کی تجویز پر تحفظات

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں قومی محاصل ٹیکس آمدن کی منصفانہ تقسیم کے لیے گیارہواں نیشنل فنانس کمیشن صدر کی منظوری کے بعد تشکیل دے دیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ اس کمیشن کے چیئرمین ہوں گے جبکہ کمیشن میں مجموعی طور پر 9 ارکان شامل ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ کمیشن آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 160(1)کے تحت قائم کیا گیا ہے، جبکہ 21 جولائی 2020کو جاری کیا گیا پچھلا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت قائم کمیشن اب تحلیل تصور ہوگا۔

کمیشن میں شامل ارکان

وفاقی وزیر خزانہ(چیئرمین)پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان کے وزرائے خزانہ
چار ماہر اراکین
ناصر محمود کھوسہ (پنجاب)
ڈاکٹر اسد سعید (سندھ)
ڈاکٹر مشرف رسول سیان(خیبرپختونخوا)
فرمان اللہ(بلوچستان)

این ایف سی کے اختیارات اور ذمہ داریاں

نوٹیفکیشن کے مطابق، کمیشن کا بنیادی کام وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکس آمدن کی تقسیم کا تعین کرنا، وفاقی گرانٹس کی سفارش کرنا، قرضوں سے متعلق امور، اور دیگر مالیاتی پہلوں پر غور و سفارشات دینا ہے۔ وزارت خزانہ اس عمل کے لیے سیکریٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گی۔

صوبوں کے حصے میں کمی کی تجویز پر اختلافات

ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کے دبا اور وفاقی مالی خسارے میں کمی کے پیش نظر، این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر نظرثانی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس تجویز کے مطابق:

صوبوں کا حصہ موجودہ 57.5 فیصدسے کم کیا جا سکتا ہے
فنڈز کی تقسیم کارکردگی سے مشروط کرنے کی سفارش ہے
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکے لیے بھی علیحدہ فنڈز مختص کیے جانے کی تجویز ہے
آبادی پر مبنی فارمولا کا وزن 82 فیصد سے کم کرنے کی تجویز زیر غور ہے
بڑے منصوبوں، جیسے دیامر بھاشا ڈیم کے لیے این ایف سی سے فنڈ مختص کرنے کی تجاویز موجود ہیں

تاہم، تمام صوبے بالخصوص سندھ اس مجوزہ تبدیلی پر اعتراض کر رہے ہیں اور اس تجویز کو مسترد کر چکے ہیں۔ ان کا مقف ہے کہ موجودہ فارمولے میں صوبوں کا حصہ کم کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

وفاقی مالی صورتحال اور این ایف سی کی اہمیت

وفاق کو گزشتہ مالی سال میں 7,444 ارب روپے جبکہ رواں مالی سال میں 6,501 ارب روپے کے بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی، دفاع، سماجی تحفظ، اور سبسڈیز وفاق کے بڑے اخراجات میں شامل ہیں۔ صرف سود کی ادائیگی پر 8,207 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

اسی لیے وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ این ایف سی کے ذریعے زیادہ مالیاتی وسائل اس کے پاس آئیں تاکہ وہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کر سکے اور مالی خسارہ کم کیا جا سکے۔

آگے کا لائحہ عمل

نیا این ایف سی اب تمام تجاویز کا جائزہ لے گا، اور وفاق و صوبوں کی باہمی مشاورت سے نیا فارمولہ تجویز کیا جائے گا۔ اس حوالے سے متفقہ ایوارڈ کے اعلان کی امید کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں صوبوں اور وفاق کے درمیان مالیاتی توازن بہتر بنایا جا سکے۔