بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ملک ریاض اور خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات، نیب کا طلبی نوٹس جاری 

قومی احتساب بیورو (نیب) نے معروف بلڈر اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض ، ان کے بیٹے علی ریاض اور قریبی ساتھیوں کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ نیب راولپنڈی کی جانب سے تمام ملزمان کو 26 اگست کی صبح 10 بجےدفتر میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
تحقیقات کا دائرہ کار صرف ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے تک محدود نہیں، بلکہ ان کے قریبی ساتھیوں خلیل الرحمان، محمد اسحاق اور عامر رشید اعوان کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ ان تمام افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے اربوں روپے کی مشکوک رقوم مختلف ذرائع سے اکٹھی کر کے بیرون ملک منتقل کیں، جو کہ منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔
نیب کے مطابق انکوائری انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت کی جا رہی ہے، اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر یہ الزام سامنے آیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے نام پر غیر قانونی طور پر زمینیں حاصل کی گئیں، ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی گئیں، اور عوام سے بڑے پیمانے پر سرمایہ اکٹھا کیا گیا —جس میں قانونی اجازت (این او سی) تک شامل نہیں تھی۔
ذرائع کے مطابق یہ زمینیں کراچی، راولپنڈی، نیو مری، پشاور اور جامشورو جیسے شہروں میں واقع ہیں، جہاں سرکاری و نجی اراضی پر مبینہ قبضے کیے گئے۔ نیب کا کہنا ہے کہ یہ رقوم پاکستان سے باہر منتقل کی گئیں، جس سے ریاست کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا اور اس عمل کو منی لانڈرنگ کے زمرے میں لایا جا رہا ہے۔
اب تمام نظریں 26 اگست پر جمی ہیں کہ آیا ملک ریاض اور ان کے خاندان کی جانب سے ان الزامات پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے، اور نیب کی یہ تازہ ترین کارروائی کس سمت جاتی ہے۔