بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب میں غیرقانونی شکار پر سات سال قید اور 50 لاکھ جرمانہ، نیا قانون نافذ

پنجاب حکومت نے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے غیرقانونی شکار اور پوچنگ کے خلاف سخت ترین سزائیں متعارف کروا دی ہیں۔ نئے ترمیم شدہ پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 (2025) کے تحت اب غیرقانونی شکار قابل گرفت اور ناقابلِ ضمانت جرم ہوگا، جس پرپانچ سے سات سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق، شکار صرف مخصوص سیزن، یومیہ حد اور لائسنس کے تحت ہی کیا جا سکتا ہے۔ مخصوص علاقوں جیسے نیشنل پارکس، وائلڈ لائف سنکچوریز اور گیم ریزروز میں شکار مکمل طور پر ممنوع ہے۔
موسمی شکار کے اوقات اور حدود
بٹیر 15 اگست سے 15 اپریل تک یومیہ حد: 50، بارانی بٹیر 1 اگست تا 30 ستمبر یومیہ حد: 6، مرغابیاں، ہنس (آبی پرندے)یکم اکتوبر سے 31 مارچ تک صرف ہفتہ و اتوار، یومیہ حد: 10، کرینز 15 اگست سے 15 اپریل یومیہ حد: 3، چکوریکمنومبر سے 1 مارچ یومیہ حد: 5،کالا و بھورا تیتر15 نومبر سے 15 فروری صرف اتوار، یومیہ حد: 6، نیل گائے، اڑیال جیسے بڑے جانورصرف خصوصی پرمٹ کے تحت شکار کی اجازت ہو گی۔

نیا قانون: سخت سزائیں، فوری کارروائیاں

ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجر سید کامران بخاری کے مطابق ایکٹ کی سیکشن 9، 11، 12، 13، 20 اور 28کی خلاف ورزی پرکم از کم 2 سال، زیادہ سے زیادہ 5 سال قید50 ہزار سے 10 لاکھ روپے تک جرمانہ، ہتھیار، گاڑیاں اور شکار کے آلات ضبط کیے جائیں گے۔سنگین خلاف ورزیوں پر 5 سے 7 سال قید 50 لاکھ روپے تک جرمانہ. اب وائلڈ لائف رینجرز کو براہِ راست ایف آئی آر درج کرنے کا اختیارحاصل ہے، اور مقدمات کی سماعت خصوصی عدالتوںمیں ہوگی۔ تاہم، فی الحال رولز کی منظوری کا عمل جاری ہونے کے باعث مقدمات پولیس کی مدد سے درج کیے جا رہے ہیں۔
رواں سیزن میں اب تک 132 مقدمات درج
رپورٹ کے مطابق، بٹیر کے شکار کا سیزن جاری ہے، اور اب تک غیرقانونی شکار پر 132 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ یہ سخت قانون شکار کے تحفظ اور نایاب پرندوں کی نسل بچانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ماہرین اور شکاری کیا کہتے ہیں؟
ماحولیاتی کارکنوںنے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون غیرقانونی شکاریوں کی حوصلہ شکنی کرے گا اور قانونی شکاریوں کو آگے آنے کا موقع دے گا۔
دوسری جانب قانونی شکار کے شوقین افرادنے مطالبہ کیا ہے کہ شکار پرمٹ حاصل کرنے کے لیے آن لائن پورٹل کو مزید تیز اور مثر بنایا جائے، کیونکہ اکثر سسٹم ڈان رہتا ہے جس سے انہیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
یہ نئے اقدامات پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کی سمت ایک اہم پیش رفت ہیں، جو نہ صرف نایاب نسلوں کی بقا کے لیے ضروری ہیں بلکہ ایک ذمہ دار معاشرے کی تشکیل میں بھی معاون ہوں گے۔