بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خیبرپختونخوا میں تباہ کن سیلاب: 493 کلومیٹر سڑکیں اور 32 پل بہہ گئے

خیبرپختونخوا کو حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے شدید متاثر کیا ہے، جہاںسڑکوں اور پلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ صوبائی محکمہ مواصلات و تعمیرات نے15 اگست سے 22 اگست کے دوران ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
سڑکوں کو کتنا نقصان ہوا؟
331 سڑکیں مجموعی طور پر336 مختلف مقامات پر متاثر ہوئیں۔493 کلومیٹر طویل سڑکیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ اب تک صرف50 سڑکیں مکمل اور229 جزوی طور پر بحال ہو پائی ہیں، جبکہ 57 سڑکیں ابھی بھی بند ہیں۔ سڑکوں کی مکمل بحالی پر9 ارب 45 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
پلوں کی صورتحال
32 پل سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں ان میں سے1 پل مکمل طور پر بحال اور22 پل جزوی طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ 9 پل تاحال بند ہیں۔ ان کی مرمت اور بحالی پر1 ارب 12 کروڑ روپے درکار ہوں گے۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقے
سوات: 79 سڑکیں، 80 مقامات پر متاثر، 43 کلومیٹر سڑکیں تباہ، 3 سڑکیں مکمل بحال، 75 جزوی بحال، 2 اب بھی بند، بحالی کی لاگت45 کروڑ روپے سے زائد،بونیر: 43 سڑکیں متاثر، 39 جزوی بحال، 4 مکمل بند، بحالی کی لاگت:ساڑھے 4 ارب روپے،صوابی: 41 سڑکیں متاثر، 32 تاحال بحال نہ ہو سکیں، بحالی کی لاگت: 2 ارب 76 کروڑ روپے
حکومتی اقدامات اور فنڈز کی تفصیل
محکمہ مواصلات و تعمیرات کے سیکریٹری محمد اسرار نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بونیر، صوابی اور دیگر اضلاع میں شدید بارشوں کے نتیجے میں بڑی سطح پر انفرا اسٹرکچر متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 15 اگست کو محکمہ خزانہ سے ڈیڑھ ارب روپے کی فوری ضرورت کا بتایا گیا۔ اگلے ہی روز70 کروڑ روپے جاری کیے گئے،40 کروڑ مالاکنڈ، 10 کروڑ ہزارہ ریجن،20 کروڑ پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے لیے مختص186 چھوٹی بڑی مشینیں فوری بحالی کے لیے متحرک کر دی گئی ہیں۔
یہ رپورٹ خیبرپختونخوا میں آنے والی قدرتی آفت کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتِ حال کو واضح کرتی ہے، جہاں انفرا اسٹرکچر کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر حکومتی توجہ اور وسائل درکار ہیں۔