کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی، منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے تحت آنے والے 9 ٹاؤنز کو پچھلے مالی سال میں اوسطاً ہر ماہ 90 کروڑ 76 لاکھ روپے ملے۔ مگر ان میں سے70 کروڑ 34 لاکھ روپے صرف تنخواہوں پر خرچ ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ باقی بچنے والے تقریباً 20 کروڑ روپے میں سے پیٹرول، میڈیکل، لیو انکیشمنٹ، پروویڈنٹ فنڈ اور انشورنس جیسے بنیادی اخراجات پورے کیے گئے۔ گلشن اقبال ٹاؤن نے اپنے دیگر اخراجات کے لیےاپنے ذرائع سے 3 کروڑ روپے بھی خرچ کیے۔
کراچی کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے ڈوبتا ہے
منعم ظفر خان نے پیپلز پارٹی اورمیئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا
مرتضیٰ وہاب کس کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں؟ پیپلز پارٹی ایک کرپٹ اور نااہل مافیا ہے، جو کراچی کے عوام کو ان کا حق دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی بارش سے نہیں، بلکہ کرپشن، بدانتظامی اور لاپرواہی سے ڈوبتا ہے۔ 230 ملی میٹر بارش میں پورا شہر پانی میں ڈوب گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بلدیاتی کارکردگی صفر ہے۔
ترقیاتی کام کے نام پر کھودا ہوا شہر
جماعت اسلامی کراچی کے امیر نے سوال اٹھایاکہ وزیرِ اعلیٰ کہتے ہیں کہ کیا پورا شہر کھود دیں؟ سوال یہ ہے کہ ریڈ لائن کے نام پر شہر پہلے ہی کھودا جا چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کریم آباد انڈر پاس آج تک مکمل نہیں ہوا،جہانگیر روڈ اور ناتھا خان برج کی حالت خستہ ہے۔K-4 منصوبہ 2023 میں مکمل ہونا تھا، مگر آج بھی خواب ہے۔
ترقیاتی فنڈز نہیں، صرف وعدے
منعم ظفر خان کے مطابق حکومت کی جانب سےترقیاتی فنڈز میں ایک پیسہ بھی نہیں دیا جا رہا، ٹاؤنز کواپنی پنشن کی رقم بھی خود ہی رکھنی پڑ رہی ہے جو تھوڑے بہت ترقیاتی کام ہوتے ہیں، ان پر بھی کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔انہوں نے آخر میں کہا کہ واٹر بورڈ کا چیئرمین بھی مرتضیٰ وہاب ہے، لیکن کارکردگی زیرو ہے۔ کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے۔ شہر کو اس کا جائز حصہ اور حق دیا جائے۔
جماعت اسلامی نے 9 ٹاؤنز کو ملنے والی رقم کا حساب پیش کر دیا








