اسلام آباد ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کرلی گئیں اور رپورٹ وزیراعظم کو ارسال کر دی گئی ہے، مگر اس رپورٹ میں کئی اہم افسران کے بیانات شامل نہ ہونے پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
نجی ادارہ کے ذرائع کے مطابق تحقیقات وفاقی تحقیقاتی آفیسر عامر نثار چوہدری نے کیں، جنہوں نےیکم اگست کو کالاشاہ کاکو کے قریب پیش آنے والے حادثے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیاگیااور رپورٹ میں شامل کیا گیا۔ ڈرائیور، ٹکٹ کلیکٹر، گارڈز، مسافر اور ریلوے اسٹاف کے بیانات، جائے حادثہ کا باقاعدہ معائنہ بھی کیا گیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں اُن اہم ریلوے افسران کو شامل نہیں کیا گیا جو*سب سے پہلے موقع پر پہنچے تھے اور جنہوں نے حادثے سے متعلق معلومات ریلوے حکام اور وفاقی وزیر کو دی تھیں۔یہی افسران عام طور پر حادثے کے ابتدائی شواہد اور ممکنہ وجوہات پر روشنی ڈالتے ہیں، اور تحقیقاتی ٹیمیں ان سے سوالات بھی کرتی ہیں — مگر اس بار ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔
حادثہ کب اور کہاں پیش آیا؟
یکم اگست کواسلام آباد ایکسپریس کوکالاشاہ کاکو کے قریب حادثہ پیش آیا تھا، جس میںپانچ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور30 کے قریب مسافر زخمی ہوئے تھے۔
❓ کیا اصل حقائق چھپائے جا رہے ہیں؟
افسران کے بیانات کو شامل نہ کرنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ کیا یہ صرف ایک معمولی کوتاہی تھی؟ یا پھر کچھ باتیں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ ان سوالات کے جوابات آنا ابھی باقی ہیں۔









