برٹش ایئرویز کی ایک پرواز کے مسافروں کو اس وقت غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب کپتان نے روانگی سے محض چند منٹ قبل 20 مسافروں کو طیارے سے اترنے کی ہدایت دے دی — اور اس کی وجہ بھی خاصی حیرت انگیز تھی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پرواز کو فلورنس سے روانہ ہونا تھا، جہاں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا تھا۔ شدید گرمی کی وجہ سے ہوا کی کثافت کم ہو گئی، جس کا اثر طیارے کی پرواز بھرنے کی صلاحیت پر پڑا۔ ایسی صورتحال میں جہاز کو ٹیک آف کے لیے اضافی ایندھن کی ضرورت پیش آتی ہے، جو خود طیارے کے وزن میں اضافہ کر دیتا ہے۔
ایئرلائن حکام کا کہنا تھا کہ چونکہ فلورنس ایئرپورٹ کی رن وے محدود لمبائی کی ہے، اس لیے زیادہ وزن کے ساتھ طیارہ محفوظ طریقے سے ٹیک آف نہیں کر سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حفاظتی اقدامات کے تحت کچھ مسافروں کو طیارے سے اتارنا پڑا۔
ابتدائی طور پر 36 مسافروں کو اتارنے کی بات ہوئی، تاہم بالآخر تقریباً 20 مسافروں کو طیارے سے باہر جانا پڑا۔ ایک خاتون مسافر نے برطانوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ *”پائلٹ نے خود آ کر بتایا کہ غیر معمولی گرمی اور اضافی ایندھن کے باعث طیارے کا وزن بڑھ گیا ہے، اس لیے کچھ مسافروں کو سفر مؤخر کرنا ہوگا۔”*
برٹش ایئرویز کے ترجمان نے اس غیر متوقع صورتحال پر مسافروں سے معذرت کرتے ہوئے کہا فلورنس ایئرپورٹ کی مختصر رن وے اور شدید گرمی کے باعث طیارے کے محفوظ ٹیک آف کے لیے وزن کم کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ متاثرہ مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے متبادل پروازوں یا دیگر انتظامات کیے گئے تاکہ ان کی تکلیف کو کم سے کم کیا جا سکے۔
یہ واقعہ موسمیاتی اثرات کے بڑھتے ہوئے اثرات اور ایوی ایشن انڈسٹری پر اس کے ممکنہ اثرات کی ایک اور مثال ہے، جس پر ماہرین بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔









