لاہور (نیوز ڈیسک) یونیورسٹی کالج لندن کے انسٹی ٹیوٹ فار میٹر یلیز ڈسکوری سے منسلک ایرانی سائنس دان
پروفیسر مجتبی عابدی نے اپنی ٹیم کے ساتھ کمرے کی روشنی سے بجلی بنا تا نھا منا سولر سیل ایجاد کر لیا۔ یہ شمسی سیل
پروسکائٹ (perovskite) میٹریل سے بنا۔ ے بنا ، بنا ہے۔ سائنسدان تجربات میں شمسی سیل کمرے کے بلبوں سے
پھوٹتی 38 فیصد روشنی کو بجلی میں ڈھالنے میں کامیاب رہے۔ پروفیسر مجتبی اب برطانیہ کی سولر کمپنیوں سے
مذاکرات کر رہے ہیں کہ نوایجاد سولر سیل تجارتی طور پر وسیع پیمانے پر تیار ہو سکے ۔ گویا عنقریب عام سیل و
بیٹریاں ماضی کا قصہ بن جائیں گی۔ ان کی جھلکیاں پھر گزرے وقت کی نشانیاں دکھاتی وڈیوز میں ہی نظر آئیں گی۔









